خلا سے زمین کو دیکھنے پر کوئی تقسیم اور سرحدیں نظر نہیں آتیں
فرانسیسی خلا باز کا جذباتی پیغام پیرس /جرمنی:11 اکٹوبر ( یو این آئی ) فرانسیسی خلا باز سوفی ایڈنوٹ نے خلا میں تقریباً آٹھ ماہ گزارنے کے بعد زمین پر واپسی کے موقع پر کہا ہے کہ خلا سے زمین کو دیکھنے پر کوئی تقسیم اور سرحدیں نظر نہیں آتیں، بلکہ صرف ایک قیمتی سیارہ دکھائی دیتا ہے جسے ہم سب مل کر بانٹت

فرانسیسی خلا باز کا جذباتی پیغام پیرس /جرمنی:11 اکٹوبر ( یو این آئی ) فرانسیسی خلا باز سوفی ایڈنوٹ نے خلا میں تقریباً آٹھ ماہ گزارنے کے بعد زمین پر واپسی کے موقع پر کہا ہے کہ خلا سے زمین کو دیکھنے پر کوئی تقسیم اور سرحدیں نظر نہیں آتیں، بلکہ صرف ایک قیمتی سیارہ دکھائی دیتا ہے جسے ہم سب مل کر بانٹتے ہیں۔یورپی خلائی ایجنسی (ای ایس اے) سے وابستہ 44 سالہ سوفی ایڈنوٹ ہفتے کے روز جرمنی کے شہر کولون میں صحافیوں سے گفتگو کر رہی تھیں۔ وہ جمعرات کو امریکی ریاست کیلیفورنیا کے ساحل کے قریب بحرالکاہل میں اپنے خلائی کیپسول کے ذریعے اتری تھیں۔ ان کے ساتھ تین دیگر خلا باز بھی بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے واپس آئے۔سوفی ایڈنوٹ نے خلا میں مجموعی طور پر 235 دن گزارے، جو کسی یورپی خلا باز کے مسلسل مدار میں قیام کا نیا ریکارڈ ہے۔انہوں نے بتایا کہ خلا میں آٹھ ماہ کے دوران انہوں نے خوشی سے لے کر انتہائی مشکل لمحات تک انسانی جذبات کی ہر کیفیت کا تجربہ کیا۔ ان کے مطابق زمین سے تقریباً 400 کلومیٹر بلندی پر موجودگی کے دوران زمین کو دیکھنے سے احساس ہوتا ہے کہ یہاں کوئی سرحدیں یا تقسیم نہیں، بلکہ یہ ایک قیمتی سیارہ ہے جو تمام انسانوں کا مشترکہ گھر ہے۔جرمنی واپسی کے موقع پر سوفی ایڈنوٹ جسمانی طور پر کمزور دکھائی دیں اور انہیں یورپی خلائی ایجنسی کے دو ڈاکٹروں کی مدد سے چلنے میں سہارا دیا گیا۔