ال نینو کا اثر: تلنگانہ میں بارش کی کمی، چاول کی قیمت نے سنچری مکمل کرلی
7 ترکاریوں کی آسمان چھوتی قیمتوں کے بعد اب سونا مسوری چاول فی کیلو 100 روپئے ، گھریلو بجٹ تباہ ہوگیا7 تاجروں کی من مانی ، مصنوعی قلت پیدا کرتے ہوئے قیمتوں میں اضافہ کیا جارہا ہے، سرکاری محکموں کی خاموشی معنی خیز محمد نعیم وجاہتحیدرآباد۔13 ۔ اکتوبر۔تلنگانہ میں ال نینو (El Nino) کے ہولناک موسمی اثرات

7 ترکاریوں کی آسمان چھوتی قیمتوں کے بعد اب سونا مسوری چاول فی کیلو 100 روپئے ، گھریلو بجٹ تباہ ہوگیا7 تاجروں کی من مانی ، مصنوعی قلت پیدا کرتے ہوئے قیمتوں میں اضافہ کیا جارہا ہے، سرکاری محکموں کی خاموشی معنی خیز محمد نعیم وجاہتحیدرآباد۔13 ۔ اکتوبر۔تلنگانہ میں ال نینو (El Nino) کے ہولناک موسمی اثرات اب عام آدمی کے دسترخوان تک پہنچ چکے ہیں ۔ ایک طرف جہاں ریاست میں تقریباً 30 فیصد بارش کم ریکارڈ کی گئی ہے، وہیں ریاست کے 33 میں سے 20 اضلاع میں توقع سے کم بارش ہوئی ہے ۔ ساتھ ہی ریاست کے تمام بڑے اور متوسط ذخائر آب تقریباً 50 فیصد یا اس سے زیادہ خشک ہوچکے ہیں۔ وہیں موسم سرما کے ابتدائی ایام میں بھی درجہ حرارت کا بھی غیر معمولی طور پر 37 ڈگری سیلسیس تک جا پہنچنا اس بات کا ثبوت ہے کہ آنے والے دن کتنے کٹھن ہوں گے ۔ اس قدرتی آفت اور خشک سالی کے باعث تلنگانہ کی روایتی فصل دھان کی پیداوار پر گہرا اثر پڑا ہے۔ پیداوار میں کمی اور مارکٹ میں چاول کی کمی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے منافع خور تاجروں نے مبینہ طور پر ذخیرہ اندوزی کا بازار گرم کر رکھا ہے جس سے مصنوعی قلت پیدا کر کے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جارہا ہے ۔ عام اور غریب گھرانوں کی پہلی پسند سمجھا جانے والا سونا مسوری چاول اب مارکٹ میں 100 روپئے فی کیلو کی ریکارڈ سطح پر فروخت ہورہا ہے ۔ ایک کیلو چاول کی قیمت پر 25 سے 30 روپئے تک اضافہ ہوگیا ہے۔ اس طرح ایک کنٹل چاول کی قیمت میں چار تا پانچ ہزار روپئے اضافہ ہوگیا ہے ۔ حیدرآباد اور اضلاع کے محنت کش اور متوسط طبقہ کے شہریوں کا کہنا ہے کہ گھر کا کرایہ ، برقی کا بل ، بچوں کے اسکول کی فیس اور ترکاریوں کی آسمان چھوتی قیمتوں کے بعد اب چاول کے دام 100 روپئے تک پہنچ جانے سے ان کا ماہانہ گھریلو بجٹ مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے۔ ایک شہری عارف نے عوام کا درد بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف آسمان سے بارش نہیں برس رہی ہے اور زرعی شعبہ میں فصلیں خشک ہوگئی تو دوسری طرف دکانداروں اور ذخیرہ اندوزوں نے ہماری مجبوری کا فائدہ ا ٹھاکر غریبوں کے منہ سے نوالہ چھین لینے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ اگر یہی حال رہا تو ہمیں بچوں کا پیٹ پالنے کیلئے فاقہ کشی کرنی پڑے گی ۔ عوام نے حکومت اور متعلقہ محکمہ جات سیول سپلائیز اور مارکیٹنگ ڈپارٹمنٹ سے مطالبہ کیا کہ وہ تجارتی اداروں کے گوداموں پر چھاپے مارکر غیر قانونی طور پر ذخیرہ کیا گیا چاول ضبط کریں۔ اناج کو ذخیرہ کرنے والے تاجروں کے خلاف پی ڈی ایکٹ کے تحت سخت قانونی کارروائی کریں۔ محکمہ موسمیات نے پہلے ہی واضح کردیا ہے کہ اگلے ایک دو ماہ میں بار ش کا کوئی امکان نہیں ہے جس سے درجہ حرارت میں مزید اضافہ متوقع ہے ۔ ایسے میں اگر حکومت نے فوری طور پر مارکٹ میں مداخلت کر کے قیمتوں کو کنٹرول نہیں کیا تو یہ بحران ایک بڑے سماجی اور معاشی دھماکے کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔i/k