وسط مدتی انتخابات :ریپبلکنز کیلئے مسک نے 276 ملین ڈالر خرچ کیے؟
نیویارک ۔ 13 اکٹوبر (ایجنسیز) دنیا کے امیر ترین شخص اور ٹیکنالوجی کے ارب پتی ایلون مسک نے آئندہ وسط مدتی انتخابات سے قبل دائیں بازو کے امریکی امیدواروں کی مہم کو تقویت دینے والی تنظیموں کو 276 ملین ڈالر کا عطیہ دیا ہے، امریکی میڈیا نے پیر کو بتایا۔نیویارک ٹائمز کے مطابق جولائی سے اب تک دی گئی اس رق

نیویارک ۔ 13 اکٹوبر (ایجنسیز) دنیا کے امیر ترین شخص اور ٹیکنالوجی کے ارب پتی ایلون مسک نے آئندہ وسط مدتی انتخابات سے قبل دائیں بازو کے امریکی امیدواروں کی مہم کو تقویت دینے والی تنظیموں کو 276 ملین ڈالر کا عطیہ دیا ہے، امریکی میڈیا نے پیر کو بتایا۔نیویارک ٹائمز کے مطابق جولائی سے اب تک دی گئی اس رقم سے مسک تین نومبر کے انتخابات کیلئے سب سے بڑے انفرادی عطیہ دہندہ بن گئے ہیں۔ انہوں نے اس انتخابی دورانیے میں مجموعی طور پر 366 ملین ڈالر خرچ کیے ہیں۔فنڈنگ حاصل کرنے والا سب سے بڑا ادارہ ریپبلکنز کا سینیٹ لیڈرشپ فنڈ تھا جسے 158 ملین ڈالر ملے۔ اس فنڈ کا مقصد کانگریس کے ایوانِ بالا (سینیٹ) پر پارٹی کا کنٹرول برقرار رکھنا ہے حالانکہ وہاں اکثریت کا مارجن بہت کم ہے۔قبل ازیں مسک نے 2024 میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی دوبارہ کامیابی میں مدد کیلئے 290 ملین ڈالر کا عطیہ دیا تھا۔ٹرمپ نے مسک کو وائٹ ہاؤس میں کئی ماہ تک کام کرنے کی اجازت دی تھی تاکہ وہ اخراجات میں کمی لانے والے محکمہ برائے حکومتی کارکردگی (ڈی او جی ای) کے منصوبے کی نگرانی کریں لیکن صدر کے ساتھ عوامی سطح پر اختلافات کے بعد انہوں نے یہ ذمہ داری چھوڑ دی تھی۔بعد ازاں ان کے درمیان صلح ہو گئی اور ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے ڈی سی میں منعقدہ ایک تقریب میں مسک کو نیشنل میڈل آف سائنس سے نوازا۔اگرچہ امریکہ میں انتخابی مہم کیلئے انفرادی عطیات کی حد 3,300 ڈالر فی کس مقرر ہے لیکن امریکی انتخابی مالیاتی نظام میں موجود قانونی خلا کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سیاسی میدان کے بڑے عطیہ دہندگان پولیٹیکل ایکشن کمیٹیز کہلانے والے فنڈز میں عطیہ دے سکتے ہیں۔ یہ کمیٹیز امیدواروں کی حمایت کرتی ہیں۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق مسک نے اس موسمِ گرما میں اپنے ہی امریکہ پیک کو 76 ملین ڈالر عطیہ کیے۔مسک کی فراہم کردہ سیاسی فنڈنگ سے مستفید ہونے والے دیگر اداروں میں ریپبلکنز کا کانگریشنل لیڈرشپ فنڈ (20 ملین ڈالر)، ریپبلکن گورنرز ایسوسی ایشن اور لون سٹار لبرٹی پیک (دونوں کو دس دس ملین ڈالر) نیز ریپبلکن اٹارنیز جنرل ایسوسی ایشن (دو ملین ڈالر) شامل ہیں۔