میں نہیں سمجھتا کہ چین اور روس ایران کے مددگار ہیں : ٹرمپ
واشنگٹن ۔ 13 اکٹوبر (ایجنسیز) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں چین اور روس ایران کی ’’بالکل بھی‘‘ مدد نہیں کر رہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر ماسکو اور بیجنگ نے تہران کی مدد کی تو انہیں بہت کچھ کھونا پڑ سکتا ہے۔ٹرمپ نے منگل کی صبح سوشل میڈیا پر بتایا کہ انہوں نے اپنے ناقدین اور مخالفی

واشنگٹن ۔ 13 اکٹوبر (ایجنسیز) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں چین اور روس ایران کی ’’بالکل بھی‘‘ مدد نہیں کر رہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر ماسکو اور بیجنگ نے تہران کی مدد کی تو انہیں بہت کچھ کھونا پڑ سکتا ہے۔ٹرمپ نے منگل کی صبح سوشل میڈیا پر بتایا کہ انہوں نے اپنے ناقدین اور مخالفین کے تبصرے دیکھے ہیں، جن میں کہا گیا تھا کہ چین اور روس ایران کی مدد کر رہے ہیں۔ انہوں نے لکھا:اگر وہ ایسا کر بھی رہے ہیں تو یہ مدد انتہائی محدود سطح پر ہے، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ وہ بالکل بھی ایسا کر رہے ہیں۔ ان کے پاس کھونے کیلئے بہت کچھ ہے اور ہمیں اس کا پتا چل جائے گا، بہت جلد پتا چل جائے گا۔امریکی صدر نے گزشتہ جولائی میں بھی کہا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ چین اور روس جنگ میں تہران کی مدد نہیں کریں گے۔تاہم انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر دونوں ممالک اس تنازعہ میں مداخلت کرتے ہیں تو یہ ان کیلئے بہت برا ہوگا۔ٹرمپ اس سے قبل چین کے صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو ایران کی جنگ میں ’’غیر جانب دار‘‘ بھی قرار دے چکے ہیں۔ماسکو اور بیجنگ کے تہران کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ روس نے بارہا خبردار کیا ہے کہ ایران کی جنگ مشرقِ وسطیٰ میں نیوکلیئر ہتھیاروں کی دوڑ کا سبب بن سکتی ہے۔دوسری جانب چین نے تہران پر واشنگٹن کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ایران کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔گزشتہ ماہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ کے دورہ واشنگٹن کے موقع پر انہیں ایران کی مدد کرنے سے خبردار کیا تھا۔ خبر رساں ادارے ’’رائٹرز‘‘ کے مطابق اس وقت بیجنگ میں امریکی سفیر نے بتایا تھا کہ ٹرمپ کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ چین ایسا نہیں کرے گا۔یہ تنبیہ ایسے وقت میں سامنے آئی تھی جب اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ چین نے ایران کو کندھے پر رکھ کر چلائے جانے والے فضائی دفاعی میزائل فراہم کیے ہیں اور تہران نے چینی مدد سے اپنے تیل کی فروخت پر عائد پابندیوں سے بچنے کے راستے تلاش کر لیے ہیں۔دریں اثنا ٹرمپ نے گزشتہ ستمبر میں اس رپورٹ کی اہمیت کو کم قرار دیا تھا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران کو چینی ذرائع سے اردن میں واقع ایک فوجی اڈے کی سیٹلائٹ تصاویر فراہم کی گئی تھیں۔ یہ تصاویر جولائی میں ہونے والے اس حملے سے قبل فراہم کی گئی تھیں جس میں تین امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔