پاکستان، ترکی اور مصر کی ریاض ایئرپورٹ پر حوثی حملوں کی مذمت
12 اکتوبر (ایجنسیز) پاکستان، ترکی، مصر اور سعودی عرب نے ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈہ پر یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ’’خطرناک کشیدگی‘‘ قرار دیا ہے، جسے کسی بھی بہانے سے جائز یا قابلِ قبول نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ سعودی حکام کے مطابق، اتوار کو ریاض کے بین الاقوامی ہوا

12 اکتوبر (ایجنسیز) پاکستان، ترکی، مصر اور سعودی عرب نے ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈہ پر یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ’’خطرناک کشیدگی‘‘ قرار دیا ہے، جسے کسی بھی بہانے سے جائز یا قابلِ قبول نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ سعودی حکام کے مطابق، اتوار کو ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایک تازہ حملے میں ایک شخص ہلاک اور تقریباً ایک درجن افراد زخمی ہو گئے۔ اس سے ایک روز قبل حوثی باغیوں کے دعوے کے مطابق ہونے والے حملے میں 13 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ خطہ کی ان چار طاقتوں، جنہیں مشترکہ طور پر ’’آر فور‘‘ گروپ کہا جاتا ہے، نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی اور حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے حملوں کا مقابلہ کرنے، خطرات کی روک تھام اور مستقبل میں ایسے واقعات کو دوبارہ ہونے سے روکنے کے لیے سعودی عرب کی جانب سے کیے جانے والے تمام ’’جائز اقدامات اور کارروائیوں‘‘ کی مکمل حمایت کا اعلان بھی کیا۔ چاروں ممالک نے اتوار کو جاری کردہ مشترکہ بیان میں کہا کہ یہ گروپ ان حملوں کے نتائج اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ایسے تمام اثرات کی مکمل ذمہ داری حوثی ملیشیا پر عائد کرتا ہے جو علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ گروپ مطالبہ کرتا ہے کہ یہ حملے فوری اور غیر مشروط طور پر بند کیے جائیں۔ خیال رہے کہ ناٹو کے رکن ترکی اور نیوکلیر ہتھیاروں کے حامل پاکستان نے اگست میں سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدہ پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کے تحت کسی ایک فریق پر حملے کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ گزشتہ ہفتے تینوں ممالک نے بتایا تھا کہ انہوں نے حوثی حملوں کے تناظر میں اجتماعی دفاع سے متعلق اپنی ذمہ داریوں پر عمل درآمد اور سعودی عرب میں افواج و دفاعی صلاحیتوں کی ’’تیز رفتار تعیناتی‘‘ یقینی بنانے پر اتفاق کیا ہے۔