حیدرآباد و مضافاتی اضلاع کے 43 لاکھ ووٹوں کی منسوخی کا خطرہ
7 جاسمین النساء، آمنہ بی ، شیخ محمد اور نریش نے اپنے خاندان کے ساتھ ہوئی ناانصافی کی داستان بیان کی7 اسمبلی حلقہ مشیرآباد میں باحیات شہریوں، دہائیوں پرانے ووٹرس کے نام خارج، زندہ شوہر کو مردہ قرار دیاگیا حیدرآباد۔13 ۔ اکتوبر (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ کے دارالحکومت اور اس کے قریبی اضلاع میں حال ہی

7 جاسمین النساء، آمنہ بی ، شیخ محمد اور نریش نے اپنے خاندان کے ساتھ ہوئی ناانصافی کی داستان بیان کی7 اسمبلی حلقہ مشیرآباد میں باحیات شہریوں، دہائیوں پرانے ووٹرس کے نام خارج، زندہ شوہر کو مردہ قرار دیاگیا حیدرآباد۔13 ۔ اکتوبر (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ کے دارالحکومت اور اس کے قریبی اضلاع میں حال ہی میں مکمل ہوئے ووٹر سروے اور ووٹر لسٹوں کی درستگی کے عمل میں انتظامی غفلت اور بی ایل اوز کی من مانی کے انکشافات سامنے آرہے ہیں۔ اضلاع حیدرآباد، رنگا ریڈی اور میڑچل ، ملکاجگری کے 28 اسمبلی حلقوں میں موجود 1.14 کروڑ ووٹرس میں سے 43 لاکھ سے زائد (37.3 فیصد) ووٹوں پر خطرہ کی تلوار لٹک رہی ہے ۔ سروے کے دوران نہ صرف فیلڈ عملہ نے گھروں کا چکر لگائے بغیر مکان مقفل ہونے ، ناقابل شناخت کی جھوٹی رپورٹس تیار کی بلکہ 40 سال سے ایک ہی مکان میں مقیم شہریوں اور برسر روزگار افراد کو مردہ کی فہرست میں ڈال کر ان کا حق رائے دہی سلب کرلیا۔ شہر حیدرآباد بالخصوص اسمبلی حلقہ مشیر آباد کے بھولکپور اور دوسرے علاقوں سے عام شہریوں نے بی ایل اوز کی اس ہٹ دھرمی کی داستانیں میڈیا کے سامنے بیان کی ہیں ۔ مشیر آباد کی رہائشی جاسمین النساء نے روتے ہوئے بتایا کہ میرے شوہر عبدالکریم پیشہ کے اعتبار سے ڈرائیور ہیں اور روزگار کے سلسلہ میں مختلف شہروں میں سفر کرتے رہتے ہیں۔ میں نے بی ایل او کو اس کی مکمل اطلاع دی اور اینومریشن فارم کی مکمل خانہ پوری کی اور بی ایل او کے حوالے کیا ، اس کے باوجود میرے شوہر کو فوت شدہ افراد کی فہرست میں ڈال کر ان کا ووٹ منسوخ کردیا گیا ۔ مشیرآباد کی آمنہ بی نے بتایا کہ ان کی دادی نے سال 2002 میں بھی ووٹ ڈالا تھا اور انہوں نے تمام تفصیلات کے ساتھ اینومریشن فارم جمع کروایا تھا لیکن محض نام کے معمولی فرق کا بہانہ بناکر ان کا ووٹ کاٹ دیا گیا ۔ اسی طرح 68 سالہ شہری شیخ محمد کا کہنا ہے کہ وہ پچھلے کئی دہائیوں سے مسلسل اپنے ووٹ کا استعمال کرتے آئے ہیں۔ تمام فارم جمع کروانے کے باوجود اس بار ان کا نام لسٹ سے غائب کردیا گیا ۔ بھولکپور کے نریش کے مطابق ان کا خاندان 40 سال سے ایک ہی ذاتی مکان میں مقیم ہے۔ بی ایل او ہرش وردھن کو اینومریشن فارم کی خانہ پوری کر کے دینے اور بار بار رابطہ پیدا کرنے کے باوجود ان کے گھر کے چاروں ووٹ جان بوجھ کر ناقابل شناخت زمرہ میں منسوخ کردیئے گئے۔2/k