فلمسٹارعمران خان کو28اکتوبر تک ملک چھوڑنے کا نوٹس
گیانیش کمار کیخلاف احتجاج میں شامل ہونے پر کارروائی‘ ہائیکورٹ میں چیالنج کرنے پر غور ممبئی۔15؍اکتوبر ( ایجنسیز )بالی ووڈ اداکار عمران خان نے میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبہ کو لے کر ہوئے احتجاجی مظاہرہ میں حصہ لیا تھا۔ ممبئی کے ’اگست کرانتی میدان کے احتجاج میں حصہ لینے پر ممبئی

گیانیش کمار کیخلاف احتجاج میں شامل ہونے پر کارروائی‘ ہائیکورٹ میں چیالنج کرنے پر غور ممبئی۔15؍اکتوبر ( ایجنسیز )بالی ووڈ اداکار عمران خان نے میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبہ کو لے کر ہوئے احتجاجی مظاہرہ میں حصہ لیا تھا۔ ممبئی کے ’اگست کرانتی میدان کے احتجاج میں حصہ لینے پر ممبئی پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا تھا جس کے بعد ان کے خلاف کارروائی کی گئی اور انہیں 28 اکتوبر تک ملک چھوڑنے کا نوٹس بھیجا گیا ہے۔ اداکار پر ’فارنرز ایکٹ‘ کی خلاف ورزی کا الزام ہے۔عمران خان کو یہ نوٹس فارنرز ریجنل رجسٹریشن آفس (ایف آر آر او) کے ذریعہ بھیجا گیا ہے۔عمران خاں امریکی شہریت رکھتے ہیں اور ان کے پاس او سی آئی بھی ہے۔ اداکار نوٹس کے خلاف بامبے ہائی کورٹ میں ایک رِٹ عرضی داخل کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ اس کیلئے انہوں نے ’ایم زیڈ ایم لیگل ایل ایل پی‘ کو اپنا قانونی مشیر مقرر کیا ہے۔ میڈیاکے مطابق عمران خان جمعہ یا پیر تک اپنے ایم زیڈ ایم کے وکیل ذوالفقار میمن کے ذریعہ ممبئی پولیس کے ہندوستان چھوڑنے کے حکم کو چیلنج کرتے ہوئے بامبے ہائی کورٹ میں عرضی داخل کریں گے۔عمران خان کی عرضی کے مطابق ہندوستانی قانون یا کسی بھی قواعد میں یہ التزام نہیں ہے جو اوورسیز سٹیزن آف انڈیا (او سی آئی) کارڈ رکھنے والوں کو مظاہرے میں شامل ہونے سے روک سکے۔ عرضی میں ممبئی پولیس کے ذریعہ بھیجے گئے نوٹس میں 43 سالہ اداکار کو ہندوستان چھوڑنے کے حکم دینے کو بھی انتہائی سخت قدم قرار دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ عمران خان کی پیدائش 13 جنوری 1983 کو امریکہ کی ریاست وسکانسن کے شہر میڈیسن میں ہوئی تھی اور ان کے پاس امریکی پاسپورٹ کے ساتھ ہندوستان کا اوورسیز سٹیزن آف انڈیا (او سی آئی) کارڈ بھی ہے۔ ہندوستانی شہری نہ ہونے کے باوجود ملک میں سیاسی احتجاج میں شامل ہونے کی وجہ سے ان کے خلاف کارروائی کرنے اور انہیں ملک سے باہر بھیجنے کا مطالبہ بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا کے ساتھ کچھ دیگر لوگوں نے بھی کیا۔عمران خاں نے کہا کہ وہ وہاں کسی بھی سیاسی جماعت کی نمائندگی نہیں کر رہے تھے۔ حراست میں لیے جانے کے بعد ان کی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں وہ کہتے نظر آئے تھے کہ وہ کبھی جیل نہیں گئے لیکن اب ممکن ہے کہ انہیں جیل جانا پڑے۔ ان کی یہ ویڈیو کافی وائرل ہوئی تھی۔