الیکشن کمیشن آف انڈیا میں دھاندلیاں ، بی آر ایس کے احتجاج میں تاخیر
گیانیش کمار کے خلاف صرف بیانات ، پارٹی کا کردار مشکوکحیدرآباد۔15۔اکٹوبر(سیاست نیوز) الیکشن کمیشن آف انڈیا میں ہونے والی دھاندلیوں کے معاملہ میں بی آر ایس کی سڑکوں پر جدوجہد سے متعلق فیصلہ میں کی جانے والی تاخیر کے نتیجہ میں بی آر ایس کے کردار کو مشکوک قرار دیا جانے لگا ہے اور کہاجارہا ہے کہ گیان

گیانیش کمار کے خلاف صرف بیانات ، پارٹی کا کردار مشکوکحیدرآباد۔15۔اکٹوبر(سیاست نیوز) الیکشن کمیشن آف انڈیا میں ہونے والی دھاندلیوں کے معاملہ میں بی آر ایس کی سڑکوں پر جدوجہد سے متعلق فیصلہ میں کی جانے والی تاخیر کے نتیجہ میں بی آر ایس کے کردار کو مشکوک قرار دیا جانے لگا ہے اور کہاجارہا ہے کہ گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مسئلہ پر بھارت راشٹر سمیتی کا محض بیانات پر اکتفاء اور 10 اکٹوبر کو چیف الکٹورل آفیسر کے دفترپر احتجاج کے اعلان اور اس سے دستبرداری پر بھی کئی قیاس آرائیاں کی جانے لگی ہیں۔ تلنگانہ میں فہرست رائے دہندگان سے ناموں کے اخراج کے معاملہ میں ریاستی حکومت کے موقف اور اپوزیشن کے موقف میں کسی بھی طرح کا تضاد نہ ہونے کے باوجود تلنگانہ میں بی آر ایس الکٹورل پالیسیوں اور S.I.R کے خلاف احتجاج سے گریز کر رہی ہے ۔ قومی سطح پر کاکروچ جنتا پارٹی کے علاوہ طلبہ تنظیموں ‘ کانگریس اور ’انڈیا اتحاد‘ میں شامل بیشتر تمام سیاسی جماعتوں کے شامل ہونے اور سڑکوں پر اترنے کے باوجود بی آر ایس اب تک خود کو اس طرح کے کسی بھی بڑے احتجاج سے دور رکھے ہوئے ہے۔ انڈیا اتحاد کا باضابطہ طور پر حصہ نہ ہونے کے باوجود ترنمول کانگریس نے انڈیا اتحاد کی جانب سے کئے جانے والے الیکشن کمیشن آف انڈیا کے احتجاج میں شامل ہوتے ہوئے یہ پیغام دیا ہے کہ وہ ہندستان کے جمہوری نظام کی برقراری کے لئے کسی بھی طاقت کے ساتھ متحدہ طور پر جدوجہد کے لئے تیار ہے اسی طرح کاکروچ جنتا پارٹی کی جدوجہد کو ملک بھر میں این ڈی اے میں شامل بعض سیاسی جماعتوں کے قائدین کے علاوہ بیشتر تمام اپوزیشن جماعتوں کی تائید حاصل ہورہی ہے لیکن کاکروچ جنتاپارٹی کے احتجاجی پروگرامس کے معاملہ میں بھی بی آر ایس کی خاموشی عوام کے ذہنوں میں بی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان قربت کے شبہات کو تقویت پہنچانے کا سبب بن رہی ہے حالانکہ بی آر ایس کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بی آر ایس کا بی جے پی سے کوئی اتحاد نہیں ہے اور نہ ہی بی آر ایس بی جے پی سے قربت بنانے کے حق میں ہے لیکن اس کے باوجود الیکشن کمیشن آف انڈیا کے خلاف جاری جدوجہد کے معاملہ میں بی آر ایس کے موقف پر تلنگانہ عوام بالخصوص سیاسی حلقوں میں حیرت کا اظہار کیا جا رہاہے اور کہا جارہا ہے کہ ریاست میں کلیدی اپوزیشن کے کردار میں ہونے کے باوجود بی آر ایس فہرست رائے دہندگان سے رائے دہندوں کے اخراج کے معاملہ میں آخر کیوں خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے!ملک بھر میں الیکشن کمیشن آف انڈیا اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طرز کارکردگی کے خلاف جاری احتجاج کو بالواسطہ طور پر مرکزی حکومت ‘ وزیر اعظم نریندر مودی ‘ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اور بی جے پی کے خلاف احتجاج تصور کیا جا رہاہے اور اس احتجاج اور مرکز کے خلاف جدوجہد کے معاملہ میں بی آر ایس کی خاموشی کو معنیٰ خیز قرار دیا جانے لگا ہے۔ بی آر ایس قائدین کا دعویٰ ہے کہ پارٹی قیادت ملک میں جاری احتجاج کی صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے اور 9 نومبر کو تلنگانہ کی قطعی فہرست رائے دہندگان کی اشاعت و اجرائی کے بعد فہرست کا جائزہ لیتے ہوئے اپنے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی جبکہ ملک بھر کی کئی سیاسی جماعتیں جو نہ این ڈی اے کا حصہ ہیں اور نہ ہی انڈیا اتحاد میں شامل ہیں وہ بھی اس مسئلہ پر اپنی رائے ظاہر کرتے ہوئے ملک کے دستور اور انتخابات کے تحفظ کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں خواہ وہ ترنمول کانگریس ہو یا تمل ناڈو میں ایم کے اسٹالن کی سیاسی جماعت ڈی ایم کے ہو یہ سیاسی جماعتیں بھی بی جے پی پر ’’ووٹ چوری ‘‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے اس کے خلاف سرگرم ہوچکی ہیں ۔ ہندستان بھر میں اپوزیشن سیاسی جماعتیں انتخابات میں ووٹ چوری اور بدعنوانیوں و بے قاعدگیوں کے خلاف سراپا احتجاج بنی ہوئی ہیں جبکہ بعض سیاسی جماعتیں اپنا اثر و رسوخ رکھنے کے باوجود خود احتجاج کا حصہ بننے سے گریز کر رہی ہیں لیکن اگر ان کا یہی رویہ رہتا ہے تو ایسی صورت میں GenZ جو کہ اس مسئلہ پر بھارتیہ جنتاپارٹی کو گھیرنے میں مصروف ہے وہ ان پارٹیوں کو بھی نشانہ بنانے سے گریز نہیں کرے گا جو ’ووٹ چوری‘ کے معاملہ سے خود کو تکنیکی اعتبار سے دور رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔3/m/b