’’اب تلنگانہ پولیس دینی مدارس کا ڈاٹا جمع کرنے لگی ہے‘‘
اسکولس، کالجس کا سروے نہیں تو آخر دینی ادارے نشانہ پر کیوں؟ محمد مبشرالدین خرمحیدرآباد۔14۔اکٹوبر۔تلنگانہ پولیس دینی مدارس ‘ مسلم اداروں ‘ تنظیموں کے علاوہ مراکز کی تفصیلات اکٹھا کر رہی ہے۔ریاست بھر میں پولیس کی جانب سے مسلم انتظامیہ والے اداروں کی تفصیلات جمع کئے جانے کے نتیجہ میں دینی مدارس کے ذمہ

اسکولس، کالجس کا سروے نہیں تو آخر دینی ادارے نشانہ پر کیوں؟ محمد مبشرالدین خرمحیدرآباد۔14۔اکٹوبر۔تلنگانہ پولیس دینی مدارس ‘ مسلم اداروں ‘ تنظیموں کے علاوہ مراکز کی تفصیلات اکٹھا کر رہی ہے۔ریاست بھر میں پولیس کی جانب سے مسلم انتظامیہ والے اداروں کی تفصیلات جمع کئے جانے کے نتیجہ میں دینی مدارس کے ذمہ داروں اور تنظیموں میں تشویش پیدا ہونے لگی ہے کیونکہ محکمہ پولیس کے اہلکار ان مدارس و اداروں کی تفصیلات طلب کرنے کے لئے تمام دینی مدارس کے علاوہ مسلم تنظیموں کے ذمہ داروں سے رابطہ کرتے ہوئے تفصیلات طلب کررہے ہیں اور دریافت کرنے پر یہ بتانے سے بھی قاصر ہیں کہ یہ تفصیلات کیوں حاصل کی جار ہی ہیں جبکہ محکمہ پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں کا دعویٰ ہے کہ معمول کے مطابق تفصیلات اکٹھا کرنے کا عمل ہے ۔ دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد کے دینی مدارس و تنظیموں کے ذمہ داروں سے رابطہ قائم کرتے ہوئے ان سے حاصل کی جانے والی تفصیلات کے مطابق محکمہ پولیس کی جانب سے دینی مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ خواہ وہ جزوقتی طلبہ ہی کیوں نہ ہوں ان کی تفصیلات کے علاوہ خدمات انجام دینے والے اساتذہ کی تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق محکمہ پولیس کی جانب سے پہلی مرتبہ دینی مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ اور اساتذہ کے علاوہ انتظامیہ میں شامل افراد کی تفصیلات کے ساتھ ساتھ انہیں فراہم کی جانے والی سہولتوں کے متعلق معلومات حاصل کی جار ہی ہیں۔ شہر حیدرآباد کے دینی مدارس و اداروں سے حاصل کی جانے والی تفصیلات کے سلسلہ میں محکمہ پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں نے بتایا کہ دینی مدارس کی میاپننگ کرتے ہوئے ان کے ریکارڈس کو اکٹھا کرنے کے لئے اقدامات کئے جار ہے ہیں اور محکمہ پولیس ان تمام تفصیلات کو اپنے پاس محفوظ رکھنے کی تیاری کررہا ہے تاکہ بوقت ضرورت دینی مدارس اور ان میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی تفصیلات محکمہ پولیس کے پاس محفوظ رہیں۔ پولیس کی جانب سے حاصل کی جانے والی ان تفصیلات کے سلسلہ میں دینی مدارس کے ذمہ داروں میں پائی جانے والی تشویش کو بعض گوشوں کی جانب سے بے بنیاد قرار دیا جا رہاہے جبکہ دینی مدارس کے ذمہ داروں کا کہناہے کہ آیا کبھی محکمہ پولیس کے عہدیداروں نے اس طرح کا سروے اسکولوں یا کالجس کے علاوہ ایسے ہاسٹلس کا کیا ہے جہاں دنیاوی تعلیم فراہم کی جاتی ہے! اگر ان کے سروے کی ضرورت نہیں ہے تو کیوں مخصوص مذہب کے ماننے والوں کے تعلیمی اداروں کو نشانہ بناتے ہوئے سروے کیا جا رہاہے!بتایاجاتاہے کہ دینی مدارس کے ذمہ داروں سے جو تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں ان میں پولیس اسٹیشن کے حدود‘ مدرسہ کے رجسٹریشن کی تفصیلات ‘ انتظامیہ کی تفصیلات ‘ ادارہ کا موقف ،ٹرسٹ یا سوسائیٹی ‘ تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی مجموعی تعداد میں لڑکے اور لڑکیوں کی تعداد ‘ اندرون مدرسہ رہتے ہوئے تعلیم حاصل کرنے والوں کی تعداد اور ان کی تفصیلات‘ مدرسہ میں خدمات انجام دینے والے اساتذہ کی تعداد اور ان کی تفصیلات کے علاوہ تدریسی و غیر تدریسی عملہ کی معلومات اکٹھا جا رہی ہیں۔ شہر کے کئی سرکردہ دینی مدارس کے ذمہ داروں نے بتایا کہ حیدرآباد کی تاریخ میں کبھی دینی مدارس سے اس طرح کی تفصیلات حاصل کرنے کے اقدامات نہیں کئے گئے لیکن اب جو تفصیلات اکٹھا کی جار ہی ہیں وہ تحریری طور پر فراہم کرنے کے لئے زور دیا جا رہاہے لیکن محکمہ پولیس کے جو عہدیداریا اہلکار دینی مدارس کے ذمہ داروں سے رجوع ہوتے ہوئے تفصیلات فراہم کرنے کے لئے دباؤ ڈال رہے ہیں وہ اس سلسلہ میں کسی بھی طرح کے تحریری احکامات دکھانے سے قاصر ہیں کیونکہ اعلیٰ عہدیدار جو اس کاروائی کو انجام دینے کی ہدایت دے رہے ہیں انہوں نے اس سلسلہ میں کوئی تحریری احکام جاری نہیں کئے ہیں بلکہ زبانی احکامات کی بنیاد پر دینی مدارس و اداروں کی تفصیلات حاصل کی جارہی ہیں۔دونوں شہروں کے کئی پولیس اسٹیشنوں کے حدود میں موجود دینی مدارس کے ذمہ داروں کو پولیس عہدیدار فون کرتے ہوئے پولیس اسٹیشن طلب کر رہے ہیں جبکہ بعض مقامات پر پولیس کے اہلکار اپنے عہدیداروں کے ہمراہ دینی مدارس کو پہنچ کر یہ تفصیلات حاصل کر رہے ہیں۔ ملک کے موجودہ حالات کے دوران محکمہ پولیس بالخصوص شہری پولیس انتظامیہ کی جانب سے دینی مدارس کی تفصیلات اکٹھا کئے جانے کے نتیجہ میں پائی جانے والی تشویش کے متعلق ذمہ داروں کا کہناہے کہ شہر حیدرآباد کے دینی مدارس کو پہلی مرتبہ اس طرح کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کیونکہ دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد کے علاوہ شہر کے نواحی علاقوں میں چلائے جانے والے دینی مدارس میں ہندستان کی مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ تعلیم حاصل کرتے ہیں اور ان طلبہ کو دینی مدارس میں قیام و طعام کے ساتھ دینی علوم کی فراہمی کے انتظامات کو یقینی بنایا جاتا ہے اور اب ان پولیس کاروائیوں کے نتیجہ میں ذمہ داران مدارس کو عجیب صورتحال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔