سوالیہ آوازوں کو دبانا جمہوریت کے لیے خطرناک: کے ٹی آر
جنترمنتر پر قومی پرچم لہرانے والوں کو جیل بھیجنا حکومت کے خوف کا منہ بولتا ثبوتحیدرآباد۔ 14 اکتوبر (سیاست نیوز) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ نے ملک میں نوجوانوں اور طلبہ کے احتجاج اور حق کی آواز کو طاقت کے بل بوتے پر دبانے کی کوشش پر تشویش اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں غیر معلنہ ایمرجنس

جنترمنتر پر قومی پرچم لہرانے والوں کو جیل بھیجنا حکومت کے خوف کا منہ بولتا ثبوتحیدرآباد۔ 14 اکتوبر (سیاست نیوز) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ نے ملک میں نوجوانوں اور طلبہ کے احتجاج اور حق کی آواز کو طاقت کے بل بوتے پر دبانے کی کوشش پر تشویش اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں غیر معلنہ ایمرجنسی قائم کردی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے نظام کو پاک صاف اور درست کرنے کی خاطر جدوجہد کرنے والے نوجوانوں کو جیلوں میں ڈالنا حکومتوں کی بوکھلاہٹ اور خوف کی واضح دلیل ہے۔ کے ٹی آر نے استفسار کیا کہ سورو داس اور اشوتوش رنکا کے خلاف (Breach) کے مقدمات درج کرنا کونسا انصاف ہے؟ انہوں نے دہلی کے جنترمنتر پر قومی پرچم لہرانے جیسی پرامن سرگرمی پر نوجوان قائدین کو پانچ دن کی عدالتی حراست میں بھیجے جانے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ کے ٹی آر نے انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح نوجوانوں کو بلا جواز جیلوں میں ڈالنے سے ملک کے اندر ایک اور ایمرجنسی نافذ ہونے کا خطرہ پیدا ہو رہا ہے۔ کے ٹی آر نے یاددلایا کہ ہندوستان نے آزادی طویل مظاہروں اور تحریکوں کے نتیجے میں حاصل کی تھی اور اختلاف رائے ہی اصل جمہوریت کی بنیاد ہے۔ احتجاج کرنے کے حق کا تحفظ ہر حال میں کیا جانا چاہئے۔ بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ نے کہا کہ SIR کے نام پر ملک بھر میں حقیقی اور اہل شہریوں کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کردیئے گئے ہیں۔ 13 کروڑ ووٹوں کو ووٹر لسٹ سے ہٹا دیا گیا ہے جس میں اقلیتوں کی اکثریت ہے جس کے خلاف سارے ملک میں تشویش کی لہر پائی جاتی ہے۔ نوجوان اور طلبہ شہریوں کو حق رائے دہی کے بنیادی اور دستوری حقوق سے محروم کرنے کے خلاف دہلی اور ملک کے دیگر ریاستوں میں احتجاج کررہے۔ ایسے میں احتجاج کے لئے جنترمنتر کو منسوخ کردینا سراسر ناانصافی ہے۔ کے ٹی آر نے اعلان کیا کہ ان کی جماعت ملک کے روشن مستقبل اور جمہوری اقدار کی خاطر لڑنے والے تمام نوجوانوں اور طلبہ کی جدوجہد کی مکمل حمایت کرتی ہے۔ 2؍F m/b/