لہرا دو ترنگا مہم: دہلی میں پولیس کارروائی کے باوجود ہزاروں مظاہرین جمع
چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ کا مطالبہ، ووٹر لسٹ پر نظرثانی تنازعہ میں شدت، رات میں بھی مظاہرہ جاری رہا، ابھجیت دپکے اور طلبہ لیڈر نیہا بورا زیرحراست نئی دہلی، 16 اکتوبر (ایجنسیز) دارالحکومت دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی ’لہرا دو ترنگا‘ مہم جمعہ کو پولیس کی سخت کارروائی، وسیع تر سکیورٹی ان

چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ کا مطالبہ، ووٹر لسٹ پر نظرثانی تنازعہ میں شدت، رات میں بھی مظاہرہ جاری رہا، ابھجیت دپکے اور طلبہ لیڈر نیہا بورا زیرحراست نئی دہلی، 16 اکتوبر (ایجنسیز) دارالحکومت دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی ’لہرا دو ترنگا‘ مہم جمعہ کو پولیس کی سخت کارروائی، وسیع تر سکیورٹی انتظامات اور انتخابی شفافیت کے مطالبات کے درمیان منعقد ہوئی اور رات میں بھی قومی پرچم کے ساتھ مظاہرہ دیکھنے میں آیا۔ پولیس کی جانب سے احتجاج کے اہم منتظمین کو حراست میں لیے جانے کے باوجود کناٹ پلیس کے مختلف مقامات پر مظاہرین قومی پرچم لہراتے ہوئے جمع ہوئے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ اس احتجاج نے ووٹر فہرستوں پر نظرثانی (ایس آئی آر)، پُرامن اجتماع کے حق اور دارالحکومت میں احتجاج کے لیے مخصوص مقامات کی دستیابی سے متعلق بحث کو ایک مرتبہ پھر مرکز توجہ بنادیا ہے۔ ایک نیوز ایجنسی نے ممبئی اور بنگلورو میں چھوٹے احتجاجی اجتماعات جبکہ پٹنہ میں طلبہ تنظیموں کے مظاہرے کی بھی اطلاع دی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ترنگا مہم کا پیغام دہلی سے باہر بھی پہنچا، تاہم مختلف شہروں میں مظاہرین کی تعداد اور احتجاج کی شدت یکساں نہیں تھی۔ ایک رپورٹ کے مطابق، پولیس نے کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے کو احتجاج کے مقام تک پہنچنے سے پہلے حراست میں لے لیا۔ آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی صدر نیہا بورا کو بھی کناٹ پلیس پہنچنے کی کوشش کے دوران حراست میں لیا گیا۔ پولیس نے دونوں کے خلاف کارروائی کو احتیاطی حراست قرار دیا۔ تاہم ، دونوں کی تحویل کا مقام تادم تحریر نامعلوم ہے۔ ایک دیگر رپورٹ میں بتایا گیا کہ دن بھر کناٹ پلیس اور وسطی دہلی میں منعقدہ احتجاج سے متعلق کارروائی کے دوران تقریباً 150 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ مہم کیلئے سکیورٹی انتظامات غیر معمولی طور پر سخت رکھے گئے ہیں۔ووٹر فہرستوں پر نظرثانی، تنازعہ کی بنیادی وجہاس مہم کا بنیادی سیاسی پس منظر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف جاری احتجاج ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی اور اس کے حامیوں کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں پر خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران بڑے پیمانے پر نام حذف کئے گئے اور اس عمل سے انتخابی انصاف متاثر ہوسکتا ہے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ اس معاملے کی جانچ کی جائے اور چیف الیکشن کمشنر اپنے عہدہ سے استعفیٰ دیں۔ نظرثانی کے عمل کے دوران 13 کروڑ سے زیادہ نام ووٹر فہرستوں سے حذف کئے گئے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ان میں فوت شدہ افراد، دوسری جگہ منتقل ہونے والے ووٹرز اور ایسے افراد شامل ہیں جن کا سراغ نہیں مل سکا۔ کمیشن نے یہ بھی کہا ہے کہ غلط طور پر حذف کئے گئے اہل ووٹر دوبارہ اندراج کراسکتے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ اس عمل سے اقلیتوں سمیت بعض طبقات کے حق رائے دہی پر غیر متناسب اثر پڑ سکتا ہے، جبکہ الیکشن کمیشن اور برسراقتدار بی جے پی ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔