’لہرا دو ترنگا‘مارچ:کناٹ پلیس اور آس پاس سخت حفاظتی انتظامات
نئی دہلی، 16اکتوبر (یو این آئی) ووٹر فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) میں بے ضابطگیوں کے معاملے پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کو لے کر کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی اپیل پر جمعہ کو ‘لہرا دو ترنگا’ مارچ کے دوران یہاں کنّاٹ پلیس اور اس کے آس پاس سخت حفاظتی انتظامات کی

نئی دہلی، 16اکتوبر (یو این آئی) ووٹر فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) میں بے ضابطگیوں کے معاملے پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کو لے کر کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی اپیل پر جمعہ کو ‘لہرا دو ترنگا’ مارچ کے دوران یہاں کنّاٹ پلیس اور اس کے آس پاس سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے ۔ سنٹرل پارک کے قریب ہزاروں حفاظتی اہلکار تعینات کیے گئے تھے اور اہم چوراہوں پر رکاوٹیں لگا کر سخت نگرانی کی جا رہی تھی۔ امن و قانون برقرار رکھنے کیلئے دہلی پولیس کے 6,000 سے زیادہ جوانوں کے ساتھ مرکزی مسلح پولیس فورسز کی 220 کمپنیاں تعینات کی گئی تھیں۔ کسی بھی کشیدگی سے نمٹنے کیلئے اضافی فورس بھی تیار رکھی گئی تھی۔ کنّاٹ پلیس، جنتر منتر اور پالیکا بازار کے حساس مقامات پر پولیس اہلکار پوری طرح چوکس نظر آئے ، جب کہ پٹیل چوک، آئی ٹی او اور سنسد مارگ پر رکاوٹیں لگا کر بغیر اجازت جمع ہونے والے ہجوم پر نظر رکھی گئی۔ سینٹرل پارک اور راجیو چوک کے آس پاس 10 سے زیادہ اضافی سی سی ٹی وی کیمرے بھی لگائے گئے تھے ۔ دارالحکومت کے مصروف تجارتی مرکز میں امن و قانون برقرار رکھنے کا حوالہ دیتے ہوئے پولیس نے سی جے پی کو ‘لہرا دو ترنگا’ مارچ نکالنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ دہلی پولیس کی ترجمان نیہا یادو نے کہا کہ اس پروگرام کو منظوری نہیں دی گئی تھی، اس لیے کنّاٹ پلیس اور پڑوسی علاقوں میں بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 163 کے تحت امتناعی احکامات نافذ کیے گئے تھے ۔ ایک اور قدم کے تحت نئی دہلی میونسپل کونسل (این ڈی ایم سی) نے انتظامی وجوہات کی بنا پر 16 اور 17 اکتوبر کو سینٹرل پارک عام لوگوں کیلئے بند رکھنے کا حکم دیا ہے ۔ اس فیصلے کو چیلنج کرنے والی عرضی پر جمعہ کو سپریم کورٹ نے فوری سماعت سے انکار کر دیا۔ عآپ کارکنوں نے 270فٹ لمبے ترنگے کیساتھ نکالا مارچنئی دہلی، 16 اکتوبر (یو این آئی) عام آدمی پارٹی (عآپ) کے دہلی پردیش صدر سوربھ بھاردواج کی قیادت میں پارٹی کارکنوں نے جمعہ کو 270 فٹ لمبے ترنگے کے ساتھ نارتھ ایونیو سے راشٹرپتی بھون تک پیدل مارچ نکالا۔ آپ کا دعویٰ ہے کہ بھاری پولیس فورس کی موجودگی کے باوجود کارکنوں نے ترنگا لے کر مارچ کیا اور واپس نارتھ ایونیو پہنچ کر اس کا اختتام کیا۔ اس دوران بھاردواج کے ساتھ رکن اسمبلی سنجیو جھا اور کلدیپ کمار سمیت کئی کارکن موجود تھے۔ بھاردواج نے کہا کہ ملک کے شہریوں کو اپنے ترنگے کے تئیں احترام کا اظہار کرنے اور پُرامن طریقے سے اسے لہرانے کا حق حاصل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے مجاہدین آزادی نے انگریزوں سے آزادی اس لیے حاصل کی تھی، تاکہ ہندوستانی اپنے ملک میں کہیں بھی ترنگا لہرا سکیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب حکومت لوگوں سے تھالیاں بجانے اور دیے جلانے کی اپیل کرتی ہے ، تو عام شہریوں کے پُرامن پروگرام پر اعتراض کیوں ہونا چاہیے ۔ ان کے مطابق، کوئی بھی حکومت یا پولیس شہریوں کو ترنگا لہرانے سے نہیں روک سکتی۔ عآپ لیڈر نے الزام لگایا کہ حکومت نوجوانوں کے ترنگا لہرانے کے پروگرام کو روکنے کیلئے پابندیاں عائد کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر حکومت کی جانب سے عدالت سے رجوع کیے جانے کے باوجود ترنگا لہرانے پر اعتراض سمجھ سے بالاتر ہے ۔براڑی کے رکن اسمبلی سنجیو جھا نے کہا کہ ترنگا ملک کی عزت، وقار اور شان کی علامت ہے اور اسے لہرانے سے امن و امان خراب نہیں ہوتا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کچھ لوگوں کو ترنگے سے پریشانی کیوں ہونی چاہیے ۔ وہیں، کونڈلی کے رکن اسمبلی کلدیپ کمار نے کہا کہ ترنگا لہرانا شہریوں کا آئینی حق ہے اور یہ ملک نوجوانوں، کسانوں، خواتین اور تمام شہریوں کا ہے ۔ چیف جسٹس جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوی مالیا باگچی کی بنچ نے آس پاس کے چھوٹے تاجروں کے کاروبار پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کے بارے میں تشویش ظاہر کی اور اشارہ دیا کہ نقصان ہونے کی صورت میں عدالت مداخلت کر سکتی ہے ۔ اس معاملے پر اب 26 یا 27 اکتوبر کو سماعت ہوگی۔