ڈی ایم کے ارکان پارلیمنٹ کا بیلٹ پیپر سے انتخابات کرانے کا مطالبہ
پارٹی صدر ایم کے اسٹالن کی صدارت میں اجلاس ، گیانیش کمار کو ہٹانے کا مطالبہ ، صدر جمہوریہ کو یادداشت پیش کی جائے گیچینائی ۔ 17 اکتوبر (یو این آئی) ڈی ایم کے ارکان پارلیمنٹ کے اجلاس میں ہفتہ کے روز چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کو عہدہ سے ہٹانے ، انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کی خصوصی مہم (ایس

پارٹی صدر ایم کے اسٹالن کی صدارت میں اجلاس ، گیانیش کمار کو ہٹانے کا مطالبہ ، صدر جمہوریہ کو یادداشت پیش کی جائے گیچینائی ۔ 17 اکتوبر (یو این آئی) ڈی ایم کے ارکان پارلیمنٹ کے اجلاس میں ہفتہ کے روز چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کو عہدہ سے ہٹانے ، انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کی خصوصی مہم (ایس آئی آر) کو منسوخ کرنے اور بیلٹ پیپر کے ذریعے انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا گیا۔ پارٹی نے الزام عائد کیا کہ الیکشن کمیشن کے اقدامات سے انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد مجروح ہوا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے کے مطالبے پر نوجوانوں کی جانب سے کیے جانے والے احتجاج کی حمایت کا بھی اعلان کیا گیا۔ پارٹی صدر ایم کے اسٹالن کی صدارت میں منعقدہ اس اجلاس میں یہ قرارداد بھی منظور کی گئی کہ ڈی ایم کے کے ارکان پارلیمنٹ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کو ایک یادداشت پیش کریں گے ، جس میں ایس آئی آر کی منسوخی اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) کے بجائے بیلٹ پیپر کے نظام کی بحالی کا مطالبہ کیا جائے گا۔ چار قراردادوں میں پہلی قرارداد کے تحت ڈی ایم کے نے گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے اور ایس آئی آر نافذ کرنے میں ان کے کردار کی مناسب تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ انتخابی فہرستوں سے اہل ووٹروں کے نام حذف کیے گئے ہیں۔ اس نے 2025 میں بہار میں ایس آئی آر کی مخالفت میں اسٹالن کے موقف کا بھی حوالہ دیا۔ پارٹی نے 2 نومبر 2025 کو ڈی ایم کے کی جانب سے طلب کردہ کل جماعتی اجلاس، اس مہم کے خلاف قانونی چارہ جوئی اور ریاست بھر میں کیے گئے احتجاج کا بھی ذکر کیا۔ دوسری قرارداد میں ایس آئی آر منسوخ کرنے اور چیف الیکشن کمشنر کو عہدے سے ہٹانے کے مطالبے پر طلبہ اور نوجوانوں کے احتجاج کی حمایت کی گئی۔ اس سلسلے میں ایک اخباری رپورٹ کا حوالہ بھی دیا گیا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر نے دیگر دو الیکشن کمشنروں سے مشورہ کیے بغیر فیصلے کیے ۔ پارٹی نے دہلی اور چنئی میں مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی کی اطلاعات کی بھی مذمت کی۔ اس نے اپوزیشن رہنماؤں، بشمول سابق وزرائے اعلیٰ اروند کیجریوال، پنارائی وجین، ممتا بنرجی اور مانک سرکار کی گرفتاریوں پر اسٹالن کی تنقید کا حوالہ دیا۔