آبنائے ہرمز کو کھلوانے کا فیصلہ امریکہ کے ہاتھ میں : عراقچی
تہران ۔ 18 اکٹوبر (ایجنسیز) ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ایرانی شرائط پوری ہو جائیں تو ہرمز میں بحری آمدو رفت 7 روز میں بحال کر سکتے ہیں۔بغداد میں اسلامی تعاون کونسل کے وزرائے خارجہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کا کْھلنا امریکہ پر منحصر ہے، ایران 7 روز کا منص

تہران ۔ 18 اکٹوبر (ایجنسیز) ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ایرانی شرائط پوری ہو جائیں تو ہرمز میں بحری آمدو رفت 7 روز میں بحال کر سکتے ہیں۔بغداد میں اسلامی تعاون کونسل کے وزرائے خارجہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کا کْھلنا امریکہ پر منحصر ہے، ایران 7 روز کا منصوبہ قطر کے ذریعے امریکہ کو بھجوا چکا ہے، فیصلہ اب امریکہ کے ہاتھ میں ہے۔عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکی دھمکیاں، حملے اور ناکہ بندی جاری رہنے تک بحری تحفظ بحال نہیں ہو سکتا، امریکی کارروائیاں اور وعدہ خلافیاں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد میں رکاوٹ بنیں۔ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ایران ہمیشہ نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہوا، امریکی فوجی کارروائیوں نے ہمیشہ ہمارے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی، ایران دباؤ یا دھمکیوں سے اپنے جائز حقوق سے دستبردار نہیں ہوگا۔ان کا کہنا ہے کہ ایران نے اپنی عوام، جائز مفادات اور خودمختاری کے تحفظ کیلئے فوجی کارروائیاں کیں، ایران جنگ کی قیمت جانتا ہے اس لیے امن کو فوقیت دیتا ہے۔عباس عراقچی نے کہا ہے کہ باہمی احترام اور وعدوں کی پاسداری کی یقین دہانی پر ایران اب بھی مذاکرات کیلئے تیار ہے، علاقائی اختلافات و مسائل علاقائی ممالک کے درمیان ہی حل ہونے چاہئیں۔انہوں نے مزید کہا کہ علاقائی ممالک کو سیکیورٹی تعاون بڑھانا چاہیے، علاقائی ممالک اپنی سرزمین اور انفرا اسٹرکچر پڑوسی ممالک پر حملوں کیلئے استعمال نہ ہونے دیں، اسلامی تعاون کونسل کے رکن ممالک کے درمیان بات چیت جاری رہنی چاہیے۔