فرانس: پرتشدد مظاہروں کے بعد پیرس و دیگر شہروں میں رات کا کرفیو
پیرس 19 اکٹوبر ( ایجنسیز ) فرانس حکومت کی جانب سے دارالحکومت پیرس اور دوسرے شمالی شہروں میں پیر سے رات کے کرفیو کا اعلان کردیا گیا ہے جبکہ مختلف علاقوں میں احتجاجیوں کی جانب سے راستے بند کردئے گئے ہیں اور حکام کی جانب سے راستوں کی بحالی کیلئے جدوجہد کی جا رہی ہے ۔ ہفتے کے ختم تک فرانس میں کئے گئے مظ

پیرس 19 اکٹوبر ( ایجنسیز ) فرانس حکومت کی جانب سے دارالحکومت پیرس اور دوسرے شمالی شہروں میں پیر سے رات کے کرفیو کا اعلان کردیا گیا ہے جبکہ مختلف علاقوں میں احتجاجیوں کی جانب سے راستے بند کردئے گئے ہیں اور حکام کی جانب سے راستوں کی بحالی کیلئے جدوجہد کی جا رہی ہے ۔ ہفتے کے ختم تک فرانس میں کئے گئے مظاہروں میں تشدد پھوٹ پڑا تھا اور حالیہ عرصہ برسوں میں سب سے بدترین صورتحال پیدا ہوئی تھی ۔ وزیر اعظم سیباسشین لیکارنو نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے اندیشوں کو مسترد نہیں کیا ہے جبکہ وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ احتجاج کے دوران حالات پولیس کے قابو سے باہر ہوگئے تھے ۔ فرانس میں صدر ایمانیول میکران کے جانشین کے انتخاب سے چھ ماہ قبل یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے ۔ احتجاجیوں کی جانب سے آئندہ ہفتے کو تازہ احتجاج کا اعلان بھی کیا گیا ہے ۔ لیکارنو کے دفتر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ رات آٹھ بجے سے صبح 6 بجے تک پیرس اور دیگر شہروں میں کرفیو نافذ رہے گا ۔ یہ کرفیو پیر اور منگل کی رات کو رہے گا جس کا مقصد تجارت کو بچانا ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وہ حالات کو معمول پر لانے کا عزم رکھتے ہیں۔ پیرس میں پیر کو احتجاج پر جزوی امتناع کا بھی اعلان کیا گیا ہے ۔ واضح رہے کہ یوروپ کے دوسرے ممالک میں بھی بڑھتی قیمتوں کے باعث احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے ہیں اور میلان و بلجیم میں مظاہرین کی پولیس کی ساتھ مختصر جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔ کہا گیا ہے کہ ہفتے کے اواخر میں اسپین اور پرتگال میں بھی احتجاج ہوا ہے ۔ فرانس میں ہفتے کو تقریبا پانچ لاکھ افراد نے احتجاج میں حصہ لیا تھا جو مہنگائی پر برہم تھے ۔ چار ہفتے قبل اسکولس کی حالت بہتر بنانے کے مطالبہ کے ساتھ طلباء نے احتجاج شروع کیا تھا جو شدت اختیار کر گیا ہے ۔