بنگال میں تین مسیحی خاندانوں کو ہراساں کیا گیا اور مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا گیا
مذہب تبدیل کرنے اور عیسائیت ترک کرنے پر مجبور کیے گئے خاندانوں نے وکلاء اور سماجی کارکنوں کو بتایا کہ انہیں ہراساں کرنے کا سلسلہ 18 اکتوبر سے شروع ہوا۔ کولکتہ: مغربی بنگال کے ضلع ‘پشچم مدنی پور’ میں منگل، 20 اکتوبر کو بجرنگ دل کے کارکنوں کی جانب سے مبینہ طور پر تین مسیحی خاندانوں کو ڈرایا دھمکایا گی

مذہب تبدیل کرنے اور عیسائیت ترک کرنے پر مجبور کیے گئے خاندانوں نے وکلاء اور سماجی کارکنوں کو بتایا کہ انہیں ہراساں کرنے کا سلسلہ 18 اکتوبر سے شروع ہوا۔ کولکتہ: مغربی بنگال کے ضلع ‘پشچم مدنی پور’ میں منگل، 20 اکتوبر کو بجرنگ دل کے کارکنوں کی جانب سے مبینہ طور پر تین مسیحی خاندانوں کو ڈرایا دھمکایا گیا اور انہیں اپنا مذہب تبدیل کرنے اور عیسائیت ترک کرنے پر مجبور کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہراساں کرنے کا یہ عمل 18 اکتوبر سے شروع ہوا اور 20 اکتوبر تک جاری رہا۔ 19 اکتوبر کو متاثرین کو درگا پوجا کے ایک پنڈال میں ‘انجلی’ (مذہبی رسم) ادا کرنے پر بھی مجبور کیا گیا۔ ان کے مقدمے کی پیروی کرنے والے ایک وکیل کے مطابق، 18 اور 19 اکتوبر کو بجرنگ دل کے ارکان کا ایک ہجوم ایک خاندان کے گھر پہنچا اور انہیں اپنا مذہب چھوڑنے کا حکم دیا۔ ‘مکتوب میڈیا’ کے حوالے سے وکیل نے بتایا، “جب انہوں نے انکار کیا تو گروہ نے ان پر حملہ کر دیا۔ مبینہ طور پر ایک خاتون کے سر پر اتنی زور سے وار کیا گیا کہ وہ بے ہوش ہو گئیں۔” وکیل نے بتایا کہ خاتون کو دھندلے انداز میں یہ احساس ہوا کہ ان کی ساڑھی اتاری جا رہی ہے۔ “انہوں نے ہمیں بتایا کہ انہیں ایک ‘تطہیری رسم’ (پاک صاف کرنے کی رسم) کے لیے نہانے پر مجبور کیا گیا۔” چندرکونا پولیس اسٹیشن کے دائرہ اختیار میں آنے والے مزید تین خاندانوں کو بھی اسی طرح کی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔ متاثرین نے بتایا کہ بجرنگ دل کے کارکنوں نے ان کی 14 سالہ بیٹی کا “گلا گھونٹا” اور اس کے کپڑے پھاڑ دیے۔ وکیل نے کہا، “علاقے میں تین خاندانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ایک خاندان میں، تقریباً 14 سالہ لڑکی کا مبینہ طور پر گلا گھونٹا گیا اور دوسروں کے سامنے اس کے کپڑے پھاڑ دیے گئے۔ حملہ آوروں نے مبینہ طور پر اسے اغوا کرنے اور زیادتی کا نشانہ بنانے کی دھمکی بھی دی۔ اس کے اہل خانہ اسے کسی دوسری جگہ منتقل کر چکے ہیں۔” انہوں نے بتایا کہ ان خاندانوں کو دھمکی دی گئی کہ اگر انہوں نے پولیس کو اطلاع دی تو انہیں زندہ جلا دیا جائے گا۔ “جب انہوں نے پولیس سے مدد مانگی تو حکام نے انہیں مشورہ دیا کہ اگر وہ زندہ رہنا چاہتے ہیں تو اس گروہ کی بات مان لیں۔” وکیل کا دعویٰ ہے کہ منگل کی صبح تقریباً ساڑھے سات بجے، تینوں خاندانوں کے مردوں (شوہروں) کو وہاں سے لے جایا گیا، اور خواتین سے کہا گیا کہ انہیں “مذہبی رسومات” کی ادائیگی کے لیے ایک مندر لے جایا جائے گا۔ ’مکتوب‘کے مطابق، سول سوسائٹی کے ارکان نے مبینہ ملزمان کے نام بتاتے ہوئے کہا کہ ان کا تعلق یا تو ’بجرنگ دل‘ سے تھا یا پھر وہ کسی نہ کسی طرح اس تنظیم سے وابستہ تھے۔ وکیل نے بتایا کہ ”یہ خاندان اپنا مذہب ترک نہیں کرنا چاہتے۔ وہ شکایت درج کروانا تو چاہتے ہیں لیکن انہیں ڈر ہے، کیونکہ پولیس نے بھی انہیں ہراساں کیا ہے۔ وہ فی الحال گاؤں سے باہر نکلنا چاہتے ہیں۔“ ’انڈیا ہیٹ لیب‘کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 13 مئی سے 20 ستمبر 2026 کے درمیان مغربی بنگال کے 13 اضلاع میں عیسائیوں کو نشانہ بنانے کے کم از کم 60 واقعات پیش آئے۔ رپورٹ کے مطابق، ریاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ان واقعات میں اضافہ ہوا ہے، اور حملوں میں ملوث کچھ افراد نے تو اقتدار کی تبدیلی کا حوالہ بھی دیا۔