دہلی ریس کورس مسجدمیں بجلی اور پانی بحال کریں
دہلی وقف بورڈ کا مطالبہ، ایل اینڈ ڈی او آفس کو مکتوب روانہ نئی دہلی ۔ 22 اکٹوبر (ایجنسیز) دہلی وقف بورڈ نے وزیراعظم کی رہائش گاہ کے قریب واقع تاریخی ریس کورس مسجد میں منقطع بجلی اور پانی کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ بورڈ کے سی ای او تنویر احمد نے 19 اور 21 اکتوبر کو لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس اور ای

دہلی وقف بورڈ کا مطالبہ، ایل اینڈ ڈی او آفس کو مکتوب روانہ نئی دہلی ۔ 22 اکٹوبر (ایجنسیز) دہلی وقف بورڈ نے وزیراعظم کی رہائش گاہ کے قریب واقع تاریخی ریس کورس مسجد میں منقطع بجلی اور پانی کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ بورڈ کے سی ای او تنویر احمد نے 19 اور 21 اکتوبر کو لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس اور این ڈی ایم سی کو مکتوب لکھ کر بنیادی سہولیات بحال کرنے پر زور دیا تاکہ نمازی عبادت جاری رکھ سکیں۔ایل اینڈ ڈی او کو بھیجے گئے خط میں وقف بورڈ نے واضح کیا کہ 8 ستمبر 1977 کے سرکاری گزٹ میں ریس کورس مسجد اور قبرستان کو وقف جائیداد نوٹیفائی کیا گیا تھا۔ بورڈ کے مطابق دستیاب ریکارڈز سے ثابت ہے کہ یہ تاریخی مسجد براہِ راست بورڈ کے زیر انتظام ہے اور اس پر کوئی عدالتی تنازعہ نہیں ہے۔یہ پیش رفت مسجد کو بے دخلی کا نوٹس ملنے کے تیرہ دن بعد اور اطراف میں مسماری شروع ہونے پر سامنے آئی جس سے سینکڑوں خاندان بے گھر ہو گئے۔ بورڈ نے 1976 کے قانونی بجلی کنکشن کے ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے سہولیات کی بحالی چاہی اور مراسلہ وزارت اقلیتی امور کو بھیجا۔ معاملہ اس وقت اجاگر ہوا جب مسجد کے امام محمد ہارون کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا جس میں انہوں نے 6 دن کے اندر احاطہ خالی کرنے کے حکم کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ بجلی اور پانی منقطع ہونے کی وجہ سے نمازیوں کیلئے باجماعت نماز ادا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔امام ہارون کے مطابق مسجد کے تمام بل ہمیشہ بروقت ادا کیے گئے لیکن وقف بورڈ نے ان کے خطوط کا جواب نہیں دیا۔ اس دوران مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی نے 20 اکتوبر کو مرکزی وزیر اقلیتی امور کرن رجیجو سے رابطہ کر کے فوری مداخلت کی اپیل کی۔اسد الدین اویسی نے سوشل میڈیا پر دہلی وقف بورڈ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ مسجد کے رجسٹرڈ وقف جائیداد ہونے کے باوجود بورڈ نے انہدام کے احکامات کو بروقت چیلنج نہیں کیا اور نہ ہی معاملے کو حل کرنے کیلئے سنجیدہ قدم اٹھایا۔