ملک میں 23اکتوبر سے ہر گلی جنتر منتر پروگرام
حیدرآباد کے کئی علاقوں میں پروگرام منعقد کرنے طلباء تنظیموں کا اعلان حیدرآباد۔21۔اکٹوبر(سیاست نیوز) ملک میں 23 اکٹوبر سے ’ہر گلی جنتر منتر‘ پروگرام کا اعلان کیاگیا ہے تاکہ ملک بھر میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کے علاوہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج میں شدت پیدا کی جاسکے۔بتایا جاتاہے کہ

حیدرآباد کے کئی علاقوں میں پروگرام منعقد کرنے طلباء تنظیموں کا اعلان حیدرآباد۔21۔اکٹوبر(سیاست نیوز) ملک میں 23 اکٹوبر سے ’ہر گلی جنتر منتر‘ پروگرام کا اعلان کیاگیا ہے تاکہ ملک بھر میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کے علاوہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج میں شدت پیدا کی جاسکے۔بتایا جاتاہے کہ قومی سطح پر اعلان کئے گئے اس احتجاجی پروگرام کے بعد شہر حیدرآباد میں بھی 23 اکٹوبر سے ’ہر گلی جنتر منتر‘ پروگرام کا آغاز کیا جائے گا اور عوام کو اس احتجاجی پروگرام میں شامل کرنے کے لئے شعور بیداری مہم چلائی جائے گی۔ذرائع کے مطابق ریاست تلنگانہ بالخصوص شہر حیدرآباد کے کئی علاقوں میں اس پروگرام کے انعقاد کے سلسلہ میں طلبہ تنظیموں کی جانب سے اقدامات کئے جا رہے ہیں علاوہ ازیں ریاست کے بیشترجامعات میں ’جنتر منتر‘ پروگرام کی تیاریوں کا جائزہ لیا جا رہاہے تاکہ یونیورسٹیز میں احتجاجی مظاہروں کے ذریعہ طلبہ میں شعور بیداری مہم کے ذریعہ بڑے پیمانے پر احتجاج کو یقینی بنایا جاسکے۔ملک کی مختلف تنظیمیں جو کہ S.I.R کے خلاف سرگرم ہیں اور اپنے احتجاج کے علاوہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کا افشاء کر نے میں مصروف ہیں وہ تمام اس مہم میں شامل ہونے لگی ہیں۔ اپوزیشن سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ وہ سیاسی جماعتیں جو این ڈی اے میں شامل ہیں لیکن الیکشن کمیشن کے معاملہ میں حکومت کی رائے سے اتفاق نہیں رکھتی وہ بھی اس احتجاجی مظاہرہ کا حصہ بننے لگی ہیں۔شہر حیدرآباد میں ’ہر گلی جنتر منتر‘ پروگرام کے سلسلہ میں کہا جارہاہے کہ شہر حیدرآباد کی تمام انسانی حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والی تنظیموں کے علاوہ سماجی جہدکاروں اور طلبہ تنظیموں کی جانب سے 23 اکٹوبر سے بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کا آغاز کیا جائے گا اور 25 اکٹوبر کو اندرا پارک پر زبردست احتجاجی مظاہرہ منعقد کرتے ہوئے اس میں تمام تنظیموں اور اداروں کے ذمہ داروں کو شامل کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے۔الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر اٹھائے جانے والے سوالات اب کمیشن کی حدتک محدود نہیں رہے۔3