شہر کے کئی علاقوں میں پینے کے پانی کا مسئلہ
3 یوم کے وقفہ سے سربراہی پر عوام میں بے چینی ، دسمبر میں سنگین ہونے کا اندیشہحیدرآباد۔24۔اکٹوبر(سیاست نیوز) حکومت اور عہدیداروں کی جانب سے کی جانے والی پیش قیاسی کے مطابق ماہ ڈسمبر سے پینے کے پانی کی سربراہی کے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہاتھا لیکن اکٹوبر کے اواخر میں ہی پانی کا مسئلہ سنگ

3 یوم کے وقفہ سے سربراہی پر عوام میں بے چینی ، دسمبر میں سنگین ہونے کا اندیشہحیدرآباد۔24۔اکٹوبر(سیاست نیوز) حکومت اور عہدیداروں کی جانب سے کی جانے والی پیش قیاسی کے مطابق ماہ ڈسمبر سے پینے کے پانی کی سربراہی کے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہاتھا لیکن اکٹوبر کے اواخر میں ہی پانی کا مسئلہ سنگین نوعیت اختیار کرنے لگا ہے۔ دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد کے کئی علاقوں میں پینے کے پانی کی قلت کا مسئلہ پیدا ہونے لگا ہے اور محکمہ آبرسانی کی جانب سے سکندرآباد کے کئی علاقوں میں 3یوم کے وقفہ سے پانی کی سربراہی نے شہریوں میں بے چینی کی لہر پیدا کردی ہے۔ ایل ۔نینو کے اثرات کے پیش نظر حیدرآباد میٹرو پولیٹین واٹر ورکس کے ذمہ داروں نے بتایا کہ پانی کی سربراہی میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کی بنیادی وجہ ذخائر آب میں ریکارڈ کی جانے والی گراوٹ ہے۔ محکمہ آبرسانی کے عہدیداروں نے بتایا کہ پانی کی قلت کے نتیجہ میں دونوں شہروں کے کئی علاقوں سے ٹینکرس کی طلب میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے اور اب یومیہ ٹینکرس کی طلب میں ریکارڈ کئے جانے والے اضافہ کے بعد 8000 ٹینکرس کی سربراہی کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ محکمہ آبرسانی کے عہدیداروں نے یہ بات واضح کردی ہے کہ دونوںشہروں کے 16منڈلوں میں محض 3ایسے منڈل ہیں جہاں معمول کے مطابق بارش ریکارڈ کی گئی ہے لیکن اس کے باوجود بیشتر منڈلوں میں زیر زمین سطح آب میں مسلسل گراوٹ ریکارڈ کی جانے لگی ہے۔بتایاجاتاہے کہ سکندرآباد کے کئی علاقوں میں یومیہ پانی کی سربراہی کا سلسلہ منقطع کردیا گیا ہے اور کئی مقامات پر 3 دن میں ایک مرتبہ پانی کی سربراہی عمل میں لائی جانے لگی ہے۔ آبرسانی بورڈ کے عہدیداروں نے اس بات کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ پینے کے پانی کے بحران سے شہریوں کو محفوظ رکھنے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کے طور پر پانی کی سربراہی کو محدود کردیا گیا ہے اور جلد ہی شہر کے دیگر علاقوں میں بھی 3 دن میں ایک مرتبہ نل کے ذریعہ پانی کی سربراہی عمل میں لائی جائے گی۔ حیدرآباد میٹروپولیٹین واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ کے عہدیداروں نے بتایا کہ شہر حیدرآباد میں پینے کے پانی کی قلت سے نمٹنے کے لئے عہدیداروں کی جانب سے متعدد منصوبوں پر کام کیا جا رہاہے علاوہ ازیں ٹینکرس کے ذریعہ پانی کی سربراہی کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جانے کے علاوہ دریائے کرشنا اور گوداوری سے پانی کے حصول کو یقینی بنانے کی کوششیں تیز کی جاچکی ہیں۔ ذرائع کے مطابق محکمہ آبرسانی نے ریاستی حکومت بالخصوص محکمہ آبپاشی کو جامع رپورٹ کی پیشکشی کی تیاریاں شروع کردی ہیں تاکہ آئندہ ماہ سے پانی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے سلسلہ میں اقدامات کو سخت کیا جاسکے۔ایل ۔نینو کے اثرات کے نتیجہ میں ریاست بھر میں زرعی سرگرمیاں شدید متاثر ہونے لگی تھیں اور اس کے اثرات کا اندازہ شہری علاقوں میں نہیں ہورہا تھالیکن اب جبکہ شہری علاقوں میں پینے کے پانی کی سربراہی متاثر ہونے لگی ہے تو ایسی صورت میں دونوں شہروں میں پینے کے پانی کی قلت اور پیدا ہونے والے مسائل پر گفتگو کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔3/a/b