ایس آئی آر کے ذریعہ مسلم ووٹرس نشانہ ‘ حق رائے دہی سے محروم کرنے کی کوشش
الیکشن کمیشن کے ذریعہ ہی ووٹ چوری۔ گیانیش کمار کی علیحدگی تک احتجاج کا منصوبہ ۔ دھرنا چوک پر مظاہرہ ۔ کئی اہم شخصیات و طلباء قائدین شریکحیدرآباد۔25۔اکٹوبر(سیاست نیوز) ملک میں S.I.R کے بعد ہونے والے تمام اسمبلی انتخابات کو کالعدم قرار دے کر فہرست رائے دہندگان میں تنقیح و تصحیح کے نام پر جاری مخصوص ط

الیکشن کمیشن کے ذریعہ ہی ووٹ چوری۔ گیانیش کمار کی علیحدگی تک احتجاج کا منصوبہ ۔ دھرنا چوک پر مظاہرہ ۔ کئی اہم شخصیات و طلباء قائدین شریکحیدرآباد۔25۔اکٹوبر(سیاست نیوز) ملک میں S.I.R کے بعد ہونے والے تمام اسمبلی انتخابات کو کالعدم قرار دے کر فہرست رائے دہندگان میں تنقیح و تصحیح کے نام پر جاری مخصوص طبقہ کو فہرست رائے دہندگان سے خارج کرنے کا سلسلہ فوری بند کیا جائے ۔ دھرنا چوک اندرا پارک پر آج مختلف تنظیموں کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کے دوران گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبہ کے ساتھ رائے دہی کے عمل کو شفاف بنانے الیکشن کمیشن کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور اسے سیاسی چنگل سے آزاد کروانے کا مطالبہ کیا گیا۔ حیدرآباد میں شروع ہونے والے SIR کے خلاف مظاہروں سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ جنوبی ہندکی ریاستوں میں ’حیدرآباد ‘ ایس آئی آر کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا مرکز بننے جارہا ہے کیونکہ گذشتہ دویوم سے بڑے پیمانے پر مظاہروں کے دوران اب اس بات کی توثیق ہونے لگی ہے کہ شہر حیدرآباد میں موجود تمام یونیورسٹیز کے طلبہ نے بھی ایس آئی آر کے خلاف احتجاج میں شدت پیدا کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔شہر کی مختلف طلبہ تنظیموں اور فلاحی و سماجی تنظیموں کی جانب سے منعقدہ اس احتجاجی دھرنے میں جماعت اسلامی کے ذمہ داران اور دیگر نے شرکت کرکے اعلان کیا کہ ملک میں SIR کو روکنے اور گیانیش کمار کو ہٹائے جانے تک یہ احتجاج جاری رہے گا۔ سرکردہ افراد نے احتجاجیوں سے خطاب کے دوران کہا کہ حکومت اپنے سیاسی مفادات کیلئے ملک کی سالمیت کو خطرہ میں ڈالنے کی مرتکب ہوئی ہے اور جس انداز سے ایس آئی آر کے نام پر فہرست رائے دہندگان سے ناموں کو حذف کیا جا رہا ہے وہ درحقیقت ملک کے جمہوری شیرازہ کو بکھیرنے کی کوشش کے مترادف ہے۔ معززین نے کہا کہ ملک میں فاشسٹ حکومت آمرانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے قانونی اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنی من مانی کی کوشش کر رہی ہے اور بالواسطہ طور پر ہندستانی مسلمانوں کو دوسرے درجہ کا شہری بنانے کی عملی کوشش کی جار ہی ہے۔ احتجاج میں شامل افراد نے بتایا کہ فہرست رائے دہندگان سے منظم انداز میں مسلم رائے دہندوں کو خارج کرنے یا ان کے ناموں کے غلط اندراج کے ذریعہ انہیں حق رائے دہی سے محروم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جناب ملک معتصم خان نے خطاب میں کہا کہ دستور ہند ملک کے تمام شہریوں کو یکساں حقوق فراہم کرتا ہے اور یکساں حقوق کے معاملہ میں اگر مساوات کی بہترین کوئی مثال ہے تو وہ ’ووٹ‘ ہے لیکن اب حکومت کی نگرانی میں الیکشن کمیشن کے ذریعہ ہی ووٹ کی چوری کی جانے لگی ہے جو مساوات کو ختم کرنے کے مترادف ہے۔ ’پیپلز اگینسٹ ایس آئی آر‘ کی جانب سے دھرنا چوک پر اس احتجاجی مظاہرہ کے دوران امیر جماعت اسلامی جناب محمد اظہر الدین ‘ پروفیسر ہرا گوپال‘ حامد محمد خان‘ پرکالہ روی ‘ محترمہ ماریہ تبسم ‘محترمہ سارہ میتھیوز‘ شہباز علی خان‘ کرن ویسا و دیگر اہم شخصیات موجود تھے ۔جناب عبدالعزیزجبار ‘ جناب منظور احمد ‘ کے علاوہ ایس آئی او حیدرآباد‘ AISA‘ بھگت سنگھ مؤمنٹ اور دیگر تنظیموں کے ذمہ دار موجود تھے۔ احتجاجی اپنے ہاتھوں میں ترنگا اور مخالف الیکشن کمیشن بیانر و پلے کارڈس تھامے ہوئے تھے ۔ اس مظاہرہ میں شامل طلبہ تنظیموں کے ذمہ داروں نے بتایا کہ وہ شہر کے مختلف مقامات پر SIRکے خلاف اپنے احتجاجی پروگرامس کے آغاز کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں اور جلد شہر ’حیدرآباد ‘ میں فلاش پروٹسٹ Flash Protest کے طرز کے احتجاجی مظاہروں کا آغاز کیا جائے گا تاکہ عوام میں شعور بیداری کے ساتھ گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کرکے احتجاج میں شدت پیدا کی جاسکے۔3