لولا ڈا سلوا برازیل کے صدر کے طور پر چوتھی بار منتخب
لولا کی جیت کے بعد لاطینی امریکہ کے دو سب سے زیادہ آبادی والے ممالک، میکسیکو اور برازیل، اب ‘وسط-بائیں بازو’ کے نظریات رکھنے والے رہنماؤں کی قیادت میں آ گئے ہیں۔ ریو ڈی جنیرو: برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا ڈا سلوا، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت ناقد رہے ہیں، اتوار 25 اکتوبر کو دوبارہ منتخب ہو گئے۔ ان ک

لولا کی جیت کے بعد لاطینی امریکہ کے دو سب سے زیادہ آبادی والے ممالک، میکسیکو اور برازیل، اب ‘وسط-بائیں بازو’ کے نظریات رکھنے والے رہنماؤں کی قیادت میں آ گئے ہیں۔ ریو ڈی جنیرو: برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا ڈا سلوا، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت ناقد رہے ہیں، اتوار 25 اکتوبر کو دوبارہ منتخب ہو گئے۔ ان کے دوبارہ منتخب ہونے سے ان لوگوں کو بڑی راحت ملی ہے جو لاطینی امریکہ میں بڑھتے ہوئے امریکی اثر و رسوخ کے ناقد ہیں۔ تمام (100 فیصد) ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد، برازیل کے انتخابی عدالت نے اعلان کیا کہ جلد ہی 81 برس کے ہونے والے لولا کو اپنے حریف فلاویو بولسونارو پر تقریباً 44 لاکھ (4.4 ملین) ووٹوں کی ایسی برتری حاصل ہے جسے چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ یہ اعلان برازیل بھر کے پولنگ اسٹیشنوں پر ہنگامہ خیزی سے بھرپور شام کے اختتام پر سامنے آیا، جس کی وجہ ووٹنگ کے وقت میں آخری لمحات میں دو گھنٹے کی توسیع کا فیصلہ تھا۔ سپریم کورٹ کے ایک جج کے اس فیصلے کے خلاف بولسونارو قانونی کارروائی کا آغاز کر سکتے ہیں۔ لولا کی یہ کامیابی لاطینی امریکہ میں جاری اس رجحان کے برعکس ہے جس میں ٹرمپ کے اتحادی، ‘وسط-دائیں بازو’ کے نظریات رکھنے والے صدارتی امیدواروں کی بڑی تعداد کامیاب ہو رہی تھی۔ لولا کی جیت کے بعد لاطینی امریکہ کے دو سب سے زیادہ آبادی والے ممالک، میکسیکو اور برازیل، اب ‘وسط-بائیں بازو’ کے رہنماؤں کے پاس ہیں۔ اس کے علاوہ، لاطینی امریکہ کی سب سے بڑی معیشت (جس کی سالانہ جی ڈی پی 2.6 ٹریلین امریکی ڈالر ہے) اب اس پوزیشن میں ہے کہ وہ ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ بھاری محصولات (ٹیرف) کے دباؤ کے باوجود امریکہ سے آزادانہ پالیسی برقرار رکھ سکے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی ساؤ پالو کے اس ہوٹل کے اندر اور باہر موجود لولا کے حامیوں نے جشن منانا شروع کر دیا۔ اسی ہوٹل میں لولا اپنی اہلیہ (فرسٹ لیڈی) روزانجیلا ڈا سلوا کے ہمراہ ووٹوں کی گنتی کا عمل دیکھ رہے تھے۔ اگر انتخابی حکام لولا کی جیت کی باضابطہ تصدیق کر دیتے ہیں، تو یہ ان کی بطور صدر چوتھی مدت ہوگی (جو کہ مسلسل نہیں ہے)۔ ان کی اگلی مدتِ صدارت کا آغاز 5 جنوری 2027 کو ہوگا۔ برازیل میں 1985 میں فوجی آمریت کے خاتمے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ انتخابات کے پہلے مرحلے میں دوسرے نمبر پر رہنے والا امیدوار صدارت جیتنے میں کامیاب ہوا ہے۔ پہلے مرحلے میں بولسونارو نے 47 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ لولا کو 45 فیصد ووٹ ملے تھے، یعنی ان کے درمیان 22 لاکھ (2.2 ملین) ووٹوں کا فرق تھا۔ لولا اور بولسونارو، دونوں نے ابھی تک اپنے حامیوں سے خطاب نہیں کیا ہے۔ پولنگ اسٹیشنوں پر افراتفریبرازیل کی سپریم کورٹ کے جسٹس کرسٹیانو زانن کی جانب سے، دونوں امیدواروں کی درخواست پر، ووٹنگ ختم ہونے کے مقررہ وقت سے محض تین منٹ قبل پولنگ کا عمل مزید دو گھنٹے جاری رکھنے کا حکم دیا گیا۔ اس فیصلے کے بعد پولنگ اسٹیشنوں پر شام بھر افراتفری اور الجھن کی کیفیت رہی۔ لولا کی جانب سے یہ درخواست ساؤ پالو اور سلواڈور—دو ایسے شہر جہاں انہیں زیادہ حمایت حاصل ہے—میں ووٹروں کو پولنگ اسٹیشنوں تک پہنچانے والی بسوں کے مسائل کے پیشِ نظر دی گئی تھی۔ دوسری جانب، بولسونارو کی درخواست برازیل کے جنوبی علاقے میں ہونے والی شدید بارشوں کے باعث تھی، جہاں انہیں عوامی حمایت حاصل ہے۔ برازیلیا میں، ایک اسکول میں ووٹوں کی گنتی کی نگرانی کرنے والے رضاکاروں کے درمیان یہ بحث ہوئی کہ آیا انہیں ووٹنگ کا وقت بڑھانے کے اعلان کے بعد بھی وہاں رکنا چاہیے یا نہیں۔ تاہم، پولنگ ختم ہونے اور انتخابی حکام کو ووٹوں کی گنتی کی معلومات فراہم کرنے کے 15 سے 20 منٹ بعد ہی ان میں سے اکثر وہاں سے چلے گئے۔ ریو ڈی جنیرو کے ایک پولنگ اسٹیشن پر تو ووٹنگ مشینیں پولنگ ختم ہونے کے مقررہ وقت کے کچھ ہی منٹ بعد بند کر دی گئی تھیں اور انہیں دوبارہ آن نہیں کیا جا سکا۔ اس فیصلے کی وجہ سے ووٹوں کی گنتی کے عمل میں دو گھنٹے کی تاخیر ہوئی۔ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ کتنے پولنگ اسٹیشن مقررہ وقت کے بعد بھی کھلے رہے۔ بولسونارو کے اتحادی نکولس فریرا نے نشاندہی کی کہ جسٹس زانن، جنہوں نے یہ فیصلہ سنایا، ماضی میں لولا کے وکیل رہ چکے ہیں۔ سیکیورٹی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خدشاتاس ماہ کے اوائل میں ہونے والے انتخابات کے پہلے مرحلے میں، بولسونارو نے لولا کو 22 لاکھ (2.2 ملین) سے زائد ووٹوں کے فرق سے پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ لولا کو دوبارہ انتخاب جیتنے کے لیے سخت مقابلے کا سامنا تھا، جس کی بڑی وجوہات بڑھتی ہوئی مہنگائی اور سیکیورٹی سے متعلق خدشات تھے۔ بولسونارو نے اپنی انتخابی مہم میں ’جرائم کے خلاف سخت مؤقف‘ کو مرکزی حیثیت دی اور اشیائے خوردونوش کی قیمتیں کم کرنے کا وعدہ کیا؛ جبکہ لولا نے غیر فیصلہ کن ووٹروں (جو ابھی تک کسی امیدوار کے حق میں فیصلہ نہیں کر پائے تھے) کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے مہنگے مراعاتی منصوبوں کا سہارا لیا۔ دونوں رہنماؤں پر اپنے خاندان کے افراد اور اتحادیوں کے ذریعے بدعنوانی میں ملوث ہونے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ بولسونارو کا نام بھی برازیل کو ہلا کر رکھ دینے والے ایک بڑے اسکینڈل میں سامنے آیا ہے۔ اس سے قبل لولا بھی بدعنوانی کے الزامات کے تحت ایک سال سے زائد عرصہ جیل میں گزار چکے ہیں، تاہم بعد ازاں ان سزاؤں کو کالعدم قرار دے دیا گیا تھا۔ اتوار کو ملنے والی یہ فتح غالباً اس تجربہ کار رہنما کے سیاسی کیریئر کی آخری بڑی کامیابی ہوگی۔ لولا نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز 1970 کی دہائی میں ایک یونین لیڈر کے طور پر کیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے ‘ورکرز پارٹی’ کی بنیاد رکھنے میں مدد کی، اور اس جماعت کی جانب سے تین بار صدارتی امیدوار کے طور پر انتخاب لڑا، یہاں تک کہ 2002 میں وہ بالآخر کامیاب ہو گئے۔ چار سال بعد وہ دوبارہ منتخب ہوئے، اور 2010 میں ان کی کابینہ کی ایک وزیر، ڈلما روسیف ان کی جانشین بنیں۔ وہ 2014 میں دوبارہ منتخب ہوئیں۔ سن 2016 میں، بدعنوانی کی ایک وسیع تحقیقات کے دوران — جس کی زد میں لولابھی آئے تھے — ڈلما روسیف کے خلاف حساب کتاب میں ہیرا پھیری کرنے پر مواخذے کی کارروائی کی گئی۔ لولا نے 2018 میں دوبارہ صدارتی انتخاب لڑنے کی کوشش کی، لیکن مجرم قرار دیے جانے کے بعد انہیں مارچ میں جیل بھیج دیا گیا۔ لولا 580 دن قید رہنے کے بعد رہا ہوئے؛ برازیل کی سپریم کورٹ نے ان کی سزا کالعدم قرار دے دی، کیونکہ پولیس کو ایسے پیغامات ملے جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ انہیں سزا سنانے والا جج متعصب تھا۔ وہ جلد ہی سابق صدر جائر بولسونارو کے سخت ترین ناقدین میں سے ایک بن گئے اور 2022 کے انتخابات میں انہیں معمولی فرق سے شکست دی۔ سن 2024 میں، یعنی اپنے عہدے کے دو سال مکمل ہونے پر، لولا نے اعتراف کیا کہ ان کی انتظامیہ نے اب تک اپنے ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے بہت کم کام کیا ہے۔ پہلے مرحلے میں شکست کے بعد، لولا نے اپنی انتخابی مہم کو ازسرنو منظم کیا، نوجوان ووٹروں سے اپیل کی، جمہوری اقدار اور اپنی میراث کے دفاع کے لیے لاکھوں برازیلی شہریوں کو سڑکوں پر لائے، بولسونارو کی دوبارہ حکومت آنے کے خدشات کو اجاگر کیا، اور کئی سرکاری اقدامات کو مزید تقویت دی۔ لولا نے برازیل کی خودمختاری کا بھی دفاع کیا اور اس بات پر زور دیا کہ بولسونارو کے صدر بننے کی صورت میں امریکہ کو برازیل پر اپنا کنٹرول قائم کرنے کا موقع مل جائے گا۔ اس طرح وہ ٹرمپ اور نکاراگوا کے صدر ڈینیئل اورٹیگا — جن سب کی عمریں 80 برس ہیں — کے ساتھ مل کر براعظم امریکہ کے معمر ترین صدور میں شامل ہو گئے ہیں۔