مدھیہ پردیش: بجلی کی تار پر گٹکا تھوکنے سے ایک شخص جھلس کر ہلاک
گپتا پیشے کے لحاظ سے ایک مستری تھے اور گزشتہ 10 سالوں سے کرائے کے مکان میں رہائش پذیر تھے۔ مدھیہ پردیش کے ضلع ودیشا میں، تیسری منزل کی بالکونی سے گٹکا تھوکنے کے دوران تھوک کا ایک دھارا 11 کے وی ہائی ٹینشن بجلی کی تار سے جا ٹکرایا، جس کے نتیجے میں 65 سالہ شخص جھلس کر ہلاک ہو گیا۔ یہ واقعہ جمعہ، 23 اک

گپتا پیشے کے لحاظ سے ایک مستری تھے اور گزشتہ 10 سالوں سے کرائے کے مکان میں رہائش پذیر تھے۔ مدھیہ پردیش کے ضلع ودیشا میں، تیسری منزل کی بالکونی سے گٹکا تھوکنے کے دوران تھوک کا ایک دھارا 11 کے وی ہائی ٹینشن بجلی کی تار سے جا ٹکرایا، جس کے نتیجے میں 65 سالہ شخص جھلس کر ہلاک ہو گیا۔ یہ واقعہ جمعہ، 23 اکتوبر کو پیش آیا جب پربھو لال گپتا اپنی بالکونی میں کھڑے تھے۔ ’ٹائمز آف انڈیا‘ کی رپورٹ کے مطابق، تھوک کا دھارا اوپر سے گزرنے والی بجلی کی تار سے چھو گیا، جس کی وجہ سے وہ شدید جھلس گئے۔ گپتا پیشے کے لحاظ سے ایک مستری تھے اور گزشتہ 10 سالوں سے کرائے کے مکان میں رہائش پذیر تھے۔ مقامی رہائشیوں کا الزام ہے کہ بجلی فراہم کرنے والی کمپنی نے عمارتوں کے انتہائی قریب موجود تاروں کے حوالے سے ان کے خدشات کو نظر انداز کر دیا تھا۔ گپتا کے مکان مالک کا کہنا ہے کہ علاقے میں بجلی کی تاریں، کھمبے اور ٹرانسفارمر انتہائی خستہ حال ہیں۔ ماہرینِ بجلی کا کہنا ہے کہ اگر مائع (جیسے تھوک) کا کوئی مسلسل دھارا بجلی کی رواں تار سے جا لگے، تو ایسا واقعہ پیش آ سکتا ہے۔ بعض حالات میں 11 کے وی ( کی لائن سے ’الیکٹریکل آرک‘ (بجلی کا شعلہ یا کرنٹ کا ہوا کے ذریعے منتقل ہونا) بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ اگر بالکونی بجلی کی تار کے کافی قریب ہو تو کرنٹ ہوا کے ذریعے چھلانگ لگا کر کر کے) پہنچ سکتا ہے۔ اگر انسانی جسم کے ذریعے بجلی کا راستہ بن جائے، تو اس سے لگنے والا جھٹکا شدید جلنے کے زخموں یا موت کا سبب بن سکتا ہے۔