مکہ دفاعی معاہدہ بمقابلہ ’بدر‘ مفاہمتی یادداشت: قطر اور انڈونیشیا پاکستان سے کس نوعیت کی شراکت داری چاہتے ہیں؟
مبصرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ جب پاکستان اور ترکی پہلے ہی مکہ معاہدے کے رکن ہیں، تو قطر اور انڈونیشیا کے ساتھ دفاعی صنعت کے لیے ایک الگ فریم ورک کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ ماضی میں پاکستان اور ترکی یہ عندیہ بھی دیتے رہے ہیں کہ مستقبل میں مزید ممالک مکہ معاہدے میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اس نئے فریم ورک میں ب
The Bharath News1 min readSource: BBC Urdu
Read in

مبصرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ جب پاکستان اور ترکی پہلے ہی مکہ معاہدے کے رکن ہیں، تو قطر اور انڈونیشیا کے ساتھ دفاعی صنعت کے لیے ایک الگ فریم ورک کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ ماضی میں پاکستان اور ترکی یہ عندیہ بھی دیتے رہے ہیں کہ مستقبل میں مزید ممالک مکہ معاہدے میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اس نئے فریم ورک میں بھی نئے ممالک کی شمولیت کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ تاہم سعودی عرب نے تاحال بدر مفاہمتی یادداشت پر کوئی باضابطہ عوامی بیان جاری نہیں کیا۔
Read the complete story at BBC Urdu00