ڈی ایس سی امیدوار کی درخواست کے استرداد پر ہائیکورٹ غیر مطمئن
محکمہ تعلیم راحت نہ دینے طئے شدہ ذہن سے کام کر رہا ہے ۔ عدالت کا ریمارک حیدرآباد ۔ 6 ۔ نومبر ( سیاست نیوز ) تلنگانہ ہائی کورٹ کی ایک ڈویژن بنچ نے ، جس میں قائم مقام چیف جسٹس پی سام کوشی اور جسٹس این وی شراون کمار شامل تھے ، ڈی ایس سی-2002 کے امیدواروں کے تقررسے متعلق سابقہ ہدایات پر عمل نہ ہونے کے ب

محکمہ تعلیم راحت نہ دینے طئے شدہ ذہن سے کام کر رہا ہے ۔ عدالت کا ریمارک حیدرآباد ۔ 6 ۔ نومبر ( سیاست نیوز ) تلنگانہ ہائی کورٹ کی ایک ڈویژن بنچ نے ، جس میں قائم مقام چیف جسٹس پی سام کوشی اور جسٹس این وی شراون کمار شامل تھے ، ڈی ایس سی-2002 کے امیدواروں کے تقررسے متعلق سابقہ ہدایات پر عمل نہ ہونے کے بارے میں توہینِ عدالت کے مقدمہ کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران محکمۂ اسکولی تعلیم کی پرنسپل سیکریٹری ڈاکٹر یوگیتا رانا ورچوئل طور پر پیش ہوئیں۔بنچ نے اس طریقہ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا جس سے محکمۂ اسکولی تعلیم نے ڈی ایس سی-2002 کے ایک امیدوار کی درخواست مسترد کی تھی۔ بنچ نے کہا کہ یہ فیصلہ بظاہر تکنیکی انداز میں طے شدہ ذہن کے ساتھ کیا گیا کہ مطلوبہ ریلیف نہیں دینا ہے۔یہ معاملہ ہائی کورٹ کی ان ہدایات سے متعلق ہے جو 13 جولائی 2022 کو رٹ درخواستوں کے ایک مجموعہ میں جاری کی گئی تھیں۔ یہ درخواستیں ڈی ایس سی-2002 بھرتی کے تحت ہندی پنڈت گریڈ-II کی آسامیوں پر امیدواروں کی تقرری سے متعلق تھیں۔عدالت نے امیدواروں کو ہدایت دی تھی کہ وہ متعلقہ ضلع تعلیمی افسران کو نئی درخواست پیش کریں۔ ان افسران کو امیدواروں کی اہلیت کی جانچ کر کے سفارشات ‘غور اور مناسب احکام کیلئے حکومت کو بھیجنی تھیں۔ ان ہدایات پر عمل نہ ہونے کے بعد کئی امیدواروں نے توہینِ عدالت کی درخواستوں کو ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ 20 دسمبر 2024 کو گورنمنٹ پلیڈر نے عدالت کو بتایا کہ امیدواروں سے متعلق تجاویز حکومت کو بھیج دی گئی ہیں، جس کے بعد ہائی کورٹ نے توہینِ عدالت کے چھ مقدمات بند کر دیے۔عدالت نے حکومت کو ہدایت دی کہ وہ چار ہفتوں میں ان پر غور کر کے مناسب احکام جاری کرے۔ ساتھ ہی درخواست گزاروں کو یہ اختیار دیا گیا کہ عمل نہ ہونے پر وہ توہینِ عدالت کی کارروائی دوبارہ شروع کرا سکتے ہیں۔ تاہم، حکم نامہ کا جائزہ لینے کے بعد بنچ نے کہا کہ یہ اس مقصد کی عکاسی نہیں کرتا جس کے تحت جولائی 2022 میں اصل رٹ درخواستیں نمٹائی گئی تھیں ۔ ججس نے کہا کہ بظاہر حکام نے درخواست کو تکنیکی انداز میں طے شدہ ذہن کے ساتھ مسترد کیا کہ ریلیف نہیں دینا ہے۔ انہوں نے سابقہ فیصلے میں درج دلائل پر غور نہیں کیا، جن میں ریاست کے وکیل کی جانب سے ڈویژن بنچ کے سامنے پیش کیے گئے دلائل بھی شامل ہیں۔1