رحمت بیگ کے واہیات ویڈیو کے معاملے میں کچھ نوجوان گرفتار ‘ خواتین بھی شامل
ویڈیو اے آئی اور ڈیپ فیک سے تیار کردہ ظاہر کرنے کی کوشش ۔ جبری وصولی کرنے کا الزام ۔ کچھ افراد کو مفرور ملزمین کی فہرست میں شامل کیا گیاحیدرآباد۔6۔نومبر۔(سیاست نیوز) ایم ایل سی مرزارحمت بیگ کے جنسی تعلقات اور ان کے ویڈیوکے معاملہ میں اب انہیں بے قصور قرار دینے کی کوششوں کا آغاز کردیا گیا ہے اور یہ

ویڈیو اے آئی اور ڈیپ فیک سے تیار کردہ ظاہر کرنے کی کوشش ۔ جبری وصولی کرنے کا الزام ۔ کچھ افراد کو مفرور ملزمین کی فہرست میں شامل کیا گیاحیدرآباد۔6۔نومبر۔(سیاست نیوز) ایم ایل سی مرزارحمت بیگ کے جنسی تعلقات اور ان کے ویڈیوکے معاملہ میں اب انہیں بے قصور قرار دینے کی کوششوں کا آغاز کردیا گیا ہے اور یہ باور کروانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں کہ مرزارحمت بیگ کے جو بے ہودہ اور انتہائی واہیات ویڈیو وائرل ہوئے ہیں وہ AI اور ڈیپ فیک سے تیار کردہ ہیں۔ مرزا رحمت بیگ کے ویڈیو میں ان کے ساتھ موجود بعض نوجوانوں اور خواتین کو ہی نارسنگی پولیس اسٹیشن میں مرزارحمت بیگ کی شکایت میں ملزم بناتے ہوئے گرفتار کرلیا گیا ۔ نارسنگی پولیس میں ایم ایل سی نے انہیں بلیک میل کرکے ہراساں کرنے کی شکایت درج کرکے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ان کے جعلی ویڈیوتیار کرکے انہیں نشانہ بنانے اور جبری وصولی کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ رحمت بیگ کی شکایت پر سائبر آباد کمشنریٹ کے نارسنگی پولیس میں مقدمہ نمبر 1803/2026 درج کرکے تحقیقات کا آغاز کیاگیا اور پولیس کی تفصیلات میں دعویٰ کیاگیا کہ مرز ارحمت بیگ کے دفتر واقع ابراہیم باغ سے مقدمہ میں ملزم نمبرA3 دیگر 4ملزمین کے ہمراہ پہنچی تھی اور 4لاکھ روپئے نقد حاصل کرکے واپس ہورہے تھے کہ پولیس نے انہیں گرفتار کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق ملز م نمبرA2 کو پولیس نے تحقیقات کے دوران گرفتار کرلیا تھا ۔پولیس نے دعوی کیا کہ ملزمین نے آسانی سے دولت کمانے قانون ساز کونسل کے رکن رحمت بیگ کو نشانہ بنایا اور ابتداء میں ان سے 5 کروڑ کا مطالبہ کرکے 5 لاکھ روپئے حاصل کئے گئے اور انتباہ دیا گیا کہ اگر وہ مطلوبہ رقم فراہم نہیں کرتے ہیں تو ان کے بیہودہ اور واہیات ویڈیو کو منظر عام پر لاکر ان کی سیاسی ساکھ کو متاثر کیا جائے گااور انہیں بدنام کردیا جائیگا۔ ان ویڈیو کے معاملہ کے منظر عام پر آنے کے ساتھ ہی صدر مجلس بیرسٹر اسدالدین اویسی نے فوری اس وقت کے شریک معتمد جناب ایس اے حسین انور کے ذریعہ انہیں پارٹی سے خارج کرنے احکام جاری کروائے تھے اور انہیں کونسل کی رکنیت سے مستعفی ہونے کی ہدایت دی گئی تھی۔ پولیس میں درج ایف آئی آر میں جملہ 14 افراد کو ملزم بنایا گیا جن میں A1 کلیدی ملزم HYC سلمان خان کو قرار دے کر انہیں مفرور بتایا گیا ہے۔ رحمت بیگ کے ساتھ ویڈیو میں موجود نوجوان کو ہی پولیس نے A2 بنایا ہے جبکہ خاتون کو A3بنایا گیا ہے۔ علاوہ ازیں گرفتاریوں میں دعوے کے مطابق A2محمد محسن خان‘ A3(خاتون) A10 محمد سمیر ‘ A11 محمد ضمیر ‘ A12 محمد عمران اور A13 سید ریحان کی گرفتاری کی توثیق کی گئی جبکہ A1 سلمان خان‘ A4 (خاتون) ‘ A5 محمد سید عامر‘ A6 علی ‘ A7 سید ندیم‘ A8 سعود‘ A9 سفیان ‘ A14 خواجہ بلال احمد اور دیگر کو مفرور ملزمین کی فہرست میں شامل رکھا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق مرزا رحمت بیگ کی شکایت پر مقدمہ میں ملزمین کی گرفتاری کے بعد ان کے اقبالی بیان حاصل کرکے پولیس ان کے خلاف 308(5)‘ 336(4)‘351(2)‘ 61(2)‘ r/w3(5)BNS کے تحت تحقیقات کا آغاز کردیا ۔ اس کارروائی میں پولیس نے 2آٹو‘ 6 موبائیل فون‘ اور ایک لیپ ٹاپ کے علاوہ 4لاکھ 70 ہزار روپئے ضبط کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔پولیس نے جن افراد کو مفرور بتایا وہ روزانہ سوشل میڈیا پر سرگرم افراد ہیں علاوہ ازیں بعض سوشل میڈیا فیس بک پیج اڈمنس کو بھی مفرور بتایا کیاگیا ہے۔3